چارمینار، خیریت آباد اور دیگر علاقوں میں سڑکوں کی کھدائی کی تیاری

   

ٹریفک میں خلل اور عوام کو مشکلات کا اندیشہ، ٹریفک جام اور تنگ سڑکیں روز کا معمول
حیدرآباد: حیدرآباد میں بڑھتی ٹریفک اور تنگ سڑکوں کے نتیجہ میں عوام کو پہلے ہی کئی ایک دشواریوں کا سامنا ہے ۔ دفاتر کے اوقات میں ٹریفک جام شہر کی اہم شاہراہوں کا روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔ حکومت سڑکوں کی توسیع اور ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے کیلئے کئی منصوبوں کا اعلان کرتی رہی ہے لیکن گزشتہ کئی برسوں سے صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ ٹریفک سے پریشان حال عوام کیلئے آنے والے دنوں میں سڑکوں کی کھدائی سے اور بھی دشواریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ شہر کے اہم علاقوں میں کیبل ، گیس ، واٹر اور سیوریج لائینوں کو بچھانے کیلئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مختلف اداروں کو اجازت نامہ جاری کیا گیا۔ 4 وہیلرس اور آر ٹی سی بسوں کے ذریعہ اپنے دفاتر اور کام کے مقامات پہنچنے والے افراد کو ابھی سے متبادل کے بارے میں غور کرنا ہوگا۔ گزشتہ سال مئی تا ڈسمبر مانسون کے پیش نظر سڑکوں کی کھدائی پر پابندی عائد کی گئی تھی لیکن جاریہ سال جی ایچ ایم سی نے کھدائی کی اجازت دے دی ہے۔ خانگی ادارے اور بعض سرکاری ادارے جی ایچ ایم سی سے رجوع ہوکر اپنے لائینوں کو بچھانے کیلئے اجازت کے حصول میں مصروف دیکھے گئے۔ روڈ مینٹننس پروگرام کے تحت سرکاری و خانگی اداروں کو سڑکوں پر کھدائی کے ذریعہ لائین بچھانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں جی ایچ ایم سی نے تلنگانہ ٹرانسکو، حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ ، ایرٹیل ، بھاگیہ نگر گیس لمٹیڈ ، ریلائنس اور بعض دیگر کمپنیوں کو 20 کیلو میٹر سڑکوں کی کھدائی کے ذریعہ کاموں کی تکمیل کی اجازت دی ہے۔ مزید خانگی ادارے اجازت کیلئے جی ایچ ایم سی سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ 10 میٹر تک سڑکوں کی کھدائی کے سلسلہ میں زونل دفاتر کی سطح تک آن لائین منظوری دی جاتی ہے۔ روڈ کٹنگ اور ان کی دوبارہ تعمیر کے چارجس وصول کرتے ہوئے یہ اجازت دی جاتی ہے ۔ 10 میٹر سے زائد کھدائی کیلئے ہیڈ آفس رجوع ہونا پڑتا ہے۔ ذرائع کے مطابق جامع روڈ مینٹننس پروگرام (CRMP) کے تحت 6 زونس میں 7 پیکیجس کے تحت 401 کھدائی کے کاموں کے ذریعہ 709 کیلو میٹر کے احاطہ کا منصوبہ ہے جس کیلئے اداروں کو سی آر ایم پی سے رجوع ہونا پڑے گا۔ عوام کو اندیشہ ہے کہ سڑکوں کی کھدائی کے نتیجہ میں ایک مقام سے دوسرے مقام سفر کے لئے کافی وقت لگ سکتا ہے ۔ ٹریفک میں جگہ جگہ خلل کے نتیجہ میں اہم کاموں کیلئے گھر سے نکلنے والے افراد کو 4 وہیلر اور دیگر سواریوں کے استعمال میں احتیاط کرنا ہوگا۔