مرکزی حکومت نے 251 ملین ڈالر منظور کئے، چاند کی سطح اور چٹانوں کے نمونے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی، خلائی تحقیق میں نیا سنگ میل
حیدرآباد ۔23۔ ستمبر (سیاست نیوز) چاند کے راز جاننے کیلئے ہندوستان نے ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں خود کو شامل کرلیا ہے۔ خلائی تحقیق کے شعبہ میں حالیہ عرصہ میں ہندوستان نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مریخ کے مدار تک پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن چکا ہے۔ مرکزی حکومت نے چندرائن 4 مشن کے لئے 251 ملین ڈالر یعنی 2104 کروڑ روپئے کی منظوری دی ہے۔ چندرائن 4 مشن کے ذریعہ ہندوستان چاند پر موجود چٹانوں اور سطح زمین کے نمونے (سیمپلس) حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ زمینی سطح پر سائنس و ٹکنالوجی کے شعبہ کو مزید ترقی سے ہمکنار کیا جائے۔ امریکہ، سابق سویت یونین اور چین کے بعد ہندوستان چاند پر موجود زرات پر ریسرچ کے ذریعہ دیگر ترقیاتی ممالک کو پیچھے چھوڑ دے گا۔ ماہرین کے مطابق چندرائن 4 مشن ہندوستان میں سائنس و ٹکنالوجی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت مشن چندرائن پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق چاند کے بارے میں حقائق کا پتہ چلانے کی ترقی یافتہ ممالک کی یہ دوڑ عالمی سطح پر ناقابل چیلج طاقت کے طور پر ابھرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ گوگل کی جانب سے فنڈنگ سے چلنے والے ریسرچ بیورو نے آرٹیفشل انٹلیجنس کے شعبہ میں نئی ایجادات کے ذریعہ عالمی سطح پر امریکہ کو سرفہرست کردیا ہے۔ آرٹیفیشل انٹلیجنس دنیا بھر میں ایک نئی اختراع کے طور پر ابھری ہے اور اس کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ ہندوستان چاند کی تحقیق کے معاملہ میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دے گا کیونکہ چندرائن 4 کے مشن کی لینڈنگ کا جو مقام طئے کیا گیا ہے ، اس کے ذریعہ چاند کے بارے میں کئی نئے انکشافات کئے جاسکتے ہیں۔ خلائی تحقیق میں یوروپی یونین ، امریکہ اور چین سے مسابقت میں یہ مشن اہم رول ادا کریگا۔ چندرائن 4 مشن کے ذریعہ ہندوستان چاند پر والکینو کی موجودگی کا پتہ چلانے کی کوشش کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چندرائن 4 مشن سے نہ صرف خلائی تحقیق کو عروج حاصل ہوگا بلکہ زمینی سطح پر ٹکنالوجی کی ترقی ہوگی۔ یہ مشن آئندہ کے انسانی مشنس کی تکمیل کی راہ ہموار کریگا۔ چاند کی سطح کے نمونے حاصل کرکے ہندوستانی سائنسداں چاند کی اصلی حالت اور اس میں موجود اجزاء کا پتہ چلانے کی کوشش کریں گے۔ 204 میں ہندوستان نے مریخ کے مدار تک اپنی تحقیق کو پہنچا دیا تھا۔ مریخ تک پہنچنے والا ہندوستان دنیا کا چوتھا ملک ہے جہاں ہندوستانی سائنسدانوں نے پانی اور آئیس کیاپ کی موجودگی سے دنیا کو واقف کرایا تھا۔ ہندوستان میں گزشتہ ہفتہ زہرہ (VENUS) کی تحقیق کے مشن کیلئے 150 ملین ڈالر کی منظوری دی ہے۔ زمینی سطح پر سائنس و ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ خلائی تحقیق میں بھی ہندوستان ، امریکہ ، یوروپی یونین اور چین کیلئے آنے والے دنوں میں ایک چیلنج بن سکتاہے۔ 1