چراغِ دکن حضرات یوسفین ؒ

   

دکن کو اولیاء کرام کا شہر کہا جاتا ہے۔ کیونکہ یہاں کافی تعداد میں اولیاء اور صوفیاء کے مزارات ہیں۔ یہ اولیا کرام کی سرزمین ہے، جنھوں نے یہاں محبت،امن کاپیغام دیا ۔ حضرات یوسفین ؒ علم و عمل، تقویٰ و پرہیزگاری اور اخلاص و احسان سے مرقع ہیں، آپؒ کی ساری زندگی تعلیم و تربیت اور تصفیہ و تزکیہ کرتے ہوئے گزری۔ حضرت یوسف صاحبؒ مصر سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ حضرت شریف صاحب ؒکا وطن مالوف ملک شام کا سرحدی علاقہ کنعان ہے ان دونوں حضرات حج بیت اللہ و زیارت روضۂ رسول پاک ﷺ کے ارادہ سے اپنے اپنے مقام سے نکلے دوران سفر ایک منزل پر دونوں کی ملاقات ہوئی مزاج کی ہم آہنگی مقصد کی یگانگی کے باعث دونوں دوست آپس میں حقیقی بھائیوں سے بھی زیادہ محبت رکھتے تھے ۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کے مطابق آپ حضرات کا تعلق آل فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے ۔ایک ہی پیر ومرشد ؒ کے مرید ہونے کی وجہ سے برادرانِ طریقت یعنی پیر بھائی بن گئے اور دیارِ غیر کابل‘اکبرآباد ‘(آگرہ) ‘دہلی وغیرہ سے ہوتے ہوئے جنوبی ہند میں تشریف فرما ہوے اورسرزمین دکن کو اپنی خوابگاہ کی زینت سے دوبالا فرمایا ۔یہ دونوں خاصان ِ خدا دین کے دو بھائی ایک ہی دن میں رحلت فرما ہوئے ۔ حضرت شاہ یوسف باباؒ کا ۵ ؍ ذی الحجہ ۱۱۲۱ھ ؁وصال فرمایا۔ اس وقت حضرت شریف باباؒ موجود نہ تھے جب تشریف لائے اور معلوم ہوا کہ حضرت یوسف باباؒ کا وصال ہوچکا ہے یہ سنتے ہی نہایت غمگین ہوگئے پھر باوضو ہوکر حجرہ میں داخل ہوئے اور سفید چادر چہرے پر ڈال کر لیٹ گئے اور اسی وقت آپ کی روح پرواز کرگئی ۔ اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّـآ اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ o۔

ڈاکٹر حبیب عباس
مولانا مفتی عبداﷲ قرموشی ؒمعرفت الٰہی کا سرچشمہ
مولانا مفتی عبداللہ بن احمد القرموشی المعروف بہ محوی شاہ نوری چشتی قادری رحمتہ اﷲ علیہ علم و تقویٰ کے پیکر ،للہیت اور معرفت الٰہی کا سرچشمہ تھے۔مولانا مرحوم جامعہ نظامیہ کے قابل اور نامور فرزندوں میں شمار کئے جاتے ہیں ، مولوی کامل ادب عربی اور جامعہ عثمانیہ سے ایم اوایل امتیازسے کامیاب کیا۔ آپ وزارت خارجی امور حکومت ہند کے مسلمہ عربی مترجم اور ۱۹۷۱ء؁ سے عثمانیہ یونیورسٹی کے عربی پوسٹ گرایجویٹ کورسس کے اگزامنر اور۸۸۔ ۱۹۸۴ء کے دوران عثمانیہ یونیورسٹی کے چیرمین بورڈ آف اسٹڈیز عربک (اورینٹل) رہے۔ آپؒ جامعہ نظامیہ کے ایک ایسے عالم جلیل تھے جو شریعت ، طریقت اور عصری علوم کے جامعہ کے مانند تھے ، آپؒ نے علمی فیضان سے ہزارہا لوگوں کی ہرموڑ پر رہنمائی فرمائی اور کئی تشنگان علم کو عرصہ دراز تک سیراب کرتے رہے۔ آپؒ کو عصر جدید کے سرسید کے حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ جامعہ الہیات نوریہ اور اس کے تحت اداروں کے قیام واستحکام میں آپؒ نے کلید ی رول اداکیا۔ آپؒ عرصہ دراز تک نوریہ عربک کالج کے پرنسپل رہے۔ آپؒ کے عصری علوم کا کارنامہ القرموشی ایجوکیشنل سوسائٹی کا قیام ہے۔
آپؒ قبل نماز جمعہ جامع مسجد بارکس میں پند و نصائح سے بھرپور واعظ فرمایا کرتے تھے۔ آپؒ کی سرپرستی میں دو دہے قبل بارکس میں مرکزی عظیم الشان جلسہ میلاد النبی ﷺ کی ابتداء ہوئی اور آپؒ کی سرپرستی میں کئی ایک ادارے پھلے پھولے ۔ آپؒ کے علمی فیضان سے ہزارہا تشنگان علم سیراب ہوا کرتے تھے ۔ آپؒ کی ذات ایک انجمن تھی ، آپؒ کی شخصیت ہر مکتب فکر کیلئے قابل قبول تھی ۔ آپؒ ادارہ سبیل الخیر بارکس کی خاموش خدمت انجام دیا کرتے تھے ۔ آپؒ کا اہم کارنامہ ادارہ شادی فنڈ بارکس کا قیام ہے ۔ اس پرآشوب دور میں جب لڑکیوں کی شادی ایک اہم مسئلہ بن گئی تھی ایسے وقت میں مولانا مرحوم نے وقت کی نبض کو پہچانتے ہوئے نادار و مساکین لڑکیوں کی شادی کیلئے ’’ادارہ شادی فنڈ بارکس ‘‘ کا قیام عمل میں لایا ۔ آپؒ ’’ادارہ تعاون برائے بنی ہاشم بارکس ‘‘کی ترقی و ترویج کیلئے ہمیشہ مفید مشوروں سے نوازتے۔ حقیقت و معرفت کا یہ آفتاب ۴؍ ذی الحجہ ۱۴۳۲؁ ہجری کو غروب ہوگیا ۔ نماز جنازہ جامع مسجد بارکس میں مولانا مفتی محمد عظیم الدینؒ صاحب مفتی جامعہ نظامیہ نے پڑھائی ۔ آپؒ کا پندرہواں عرس شریف ۴ ؍ ذی الحجہ کونہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ’’مسکن محویہ‘‘ میں منایا جائے گا ۔