چرلہ پلی جیل کے 14 قیدیوں کو اوپن یونیورسٹی میں ماسٹرس ڈگری

   

سابق نکسلائیٹ گنیش اور محمد جمال شامل، 3 قیدیوں کو گولڈ میڈل

حیدرآباد۔/7 اگسٹ، ( سیاست نیوز) فاصلاتی تعلیم میں چرلہ پلی کے 14 قیدیوں نے ماسٹرس ڈگری حاصل کرتے ہوئے تعلیم سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک سابق ماویسٹ نے جیل سے اب تک 3 علحدہ مضامین میں ماسٹرس ڈگری کی تکمیل کرتے ہوئے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی حکام اور گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن کی بھرپور ستائش حاصل کی ہے۔ 56 سالہ پی وی گنیش ان 14 قیدیوں میں شامل ہے جنہیں یونیورسٹی کے 24 ویں کانوکیشن منعقدہ 6 اگسٹ 2022 ء میں میں ماسٹرس ڈگری سے نوازا گیا۔ گنیش کو رکن پارلیمنٹ اونگول ایم سبی رامی ریڈی کو 1995 میں گولی مارنے کے الزام میں عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔ گنیش کو سائیکالوجی میں ایم ایس سی میں ڈگری سے نوازا گیا ۔ وہ قید کے دوران سوشیالوجی اور پولٹیکل سائینس میں اوپن یونیورسٹی سے 2 ماسٹرس ڈگریاں پہلے ہی حاصل کرچکے ہیں۔ گنیش نے کہا کہ اگر جاریہ سال انہیں رہا کیا گیا تو وہ پولٹیکل سائینس یا سائیکالوجی میں ڈاکٹریٹ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ پر حملہ کے وقت گنیش کی عمر 27 سال تھی۔ چرلہ پلی جیل کے ایک اور قیدی عامر محمد جمال کو ماسٹرس ڈگری سے نوازا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ لمحہ میرے لئے میرے خاندان کیلئے باعث فخر ہے اور اگر میرے والد زندہ رہتے تو کافی خوش ہوتے۔ عامر محمد جمال کے والد عثمانیہ یونیورسٹی میں عربی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے مفخم جاہ کالج سے بی ٹیک کی تکمیل کی اور کئی کمپنیوں میں کام کیا۔ وہ اپنے والد کے خواب کی تکمیل کیلئے پی ایچ ڈی کرنا چاہتے ہیں۔ عامرجمال کو چرلہ پلی جیل میں قیدیوں کی تعلیم کیلئے فیکلٹی ممبر مقرر کیا گیا۔ یونیورسٹی میں انڈر گریجویٹ کورسیس میں 492 اور پوسٹ گریجویٹ کورسیس میں 130 قیدیوں نے انرول کرایا تھا۔ 282 قیدیوں کو ڈگری دی گئی جن میں 261 مرد اور 21 خواتین شامل ہیں۔ راجمندری جیل کے شیخ اظہر الدین کو انڈر گریجویٹ کورس میں گولڈ میڈل حاصل ہوا جبکہ کڑپہ جیل کے سریش ریڈی کو پوسٹ گریجویٹ کورس میں گولڈ میڈل کا مستحق قرار دیا گیا۔ جملہ 3 قیدیوں کو گولڈ میڈل حاصل ہوا۔ر