حیدرآباد ۔ 9 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ کے چیف منسٹر ہیں اور این چندرا بابو نائیڈو آندھرا پردیش کے سابق چیف منسٹر ہیں ۔ دونوں سیاسی حکمت عملی کے لیے جانے جاتے ہیں ۔ جب دونوں تلگو دیشم پارٹی میں تھے تو وہ اصل سیاسی حکمت عملی بنانے والے ہوا کرتے تھے ۔ دونوں ایک دوسرے کے ذہن سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ آئندہ منعقد ہونے والے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں دونوں ان کی حکمت عملی اور حکمت عملی کے توڑ کا استعمال کررہے ہیں ۔ حالانکہ چندرا بابو نائیڈو نے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آندھرا پردیش کی سیاست تک رہنا چاہتے ہیں تاہم وہ بالواسطہ طور پر تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں سرگرم ہورہے ہیں ۔ ٹی پی سی سی صدر اے ریونت ریڈی ، چندرا بابو نائیڈو کے شاگرد ہیں ۔ جب ریونت ریڈی کو تلنگانہ کانگریس کا صدر بنایا گیا تو تلنگانہ کانگریس قائدین نے کھلے طور پر تنقید کی کہ اس میں چندرا بابو نائیڈو کا ہاتھ ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کانگریس تلگو کانگریس بن گئی ہے ۔ ان حالات میں یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ نہ کرنے چندرا بابو نائیڈو کا فیصلہ کانگریس کی مدد کے لیے ہے ۔ بالخصوص ریونت ریڈی کی مدد کے لیے چنانچہ تلنگانہ تلگو دیشم کیڈر نے ان اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چندرا بابو نائیڈو کا منصوبہ بی آر ایس اور ان کے سابق ساتھی چندر شیکھر راؤ کو شکست سے دوچار کرنے کا ہے ۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں جب بی آر ایس کو اقتدار حاصل ہوا اور چندر شیکھر راؤ چیف منسٹر بنے تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ 2019 کے اے پی اسمبلی انتخابات میں چندرا بابو نائیڈو کو ایک ریٹرن گفٹ دیں گے ۔ اس الیکشن میں تلگو دیشم کا شکست ہوئی ۔ اور وائی ایس آر کانگریس برسر اقتدار آئی ۔ لہذا چندرا بابو نائیڈو اس کا بدلہ لینا چاہتے ہیں اور آنے والے تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی تائید و حمایت کرتے ہوئے چندر شیکھر راؤ کو ایک ریٹرن گفٹ دینا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ چندر شیکھر راؤ نے جو چندرا بابو نائیڈو کے ذہن کو جانتے ہیں فوری الرٹ ہوگئے اور جوابی حکمت عملی کا منصوبہ بنایا ہے ۔۔