چوکیدار امیروں کے ہوتے ہیں کسانوں کے نہیں ‘ پرینکا گاندھی

ملک اور دستور خطرہ میں ‘عوام سمجھداری سے ووٹ دیں‘ کانگریس لیڈر کا یوپی میںخطاب‘ کشتی کے ذریعہ سفر‘ عوام سے ملاقات

الہ آباد 18 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) سیاسی اہمیت کی حامل ریاست اترپردیش میں کانگریس کے کھوئے ہوئے وقار کو بحال کرنے پرینکا گاندھی واڈرا نے آج ایک کشتی میں سفر کرتے ہوئے اپنی ’’ گنگا یاترا ‘‘ کا آغاز کیا اور انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ ایک ایسی حکومت کو منتخب کریں جو ان کیلئے کام کرتی ہو۔ کانگریس جنرل سکریٹری ایک سبز کاٹن کی ساڑی اور گلابی بلاوز میں ملبوس تھیں جنہوں نے اپنی یاترا کے دوران کئی لوگوں بشمول طلبا سے بات چیت کی اور انہیں اپنی موٹر بوٹ پر مدعو بھی کیا ۔ انہوں نے منائیا گھاٹ پریاگ راج سے اپنے کشتی کے سفر کا آعاز کیا ۔ سرسا گھاٹ اور دیگر مقامات پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم مودی کی ’’ میں بھی چوکیدار ‘‘ مہم پر طنز کیا اور کہا کہ چوکیدار صرف دولتمندوں کیلئے ہوتے ہیں کسانوں کیلئے نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذہب او رذات پات کے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے کیونکہ حکومت ترقیاتی محاذ پر ناکام ہوگئی ہے ۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ ان کی مرضی وہ اپنے نام کے آگے کیا لگائیں۔ مجھے ایک کسان بھائی نے کہا کہ دیکھئے چوکیدار تو امیروں کے ہوتے ہیں اور ہم کسان تو اپنے خود چوکیدار ہوتے ہیں‘‘ ۔ بی جے پی کے پورے نہیں کئے گئے انتخابی وعدوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا دو کروڑ روزگار دئے گئے ہیں ؟ ۔ کیا وزیر اعظم کبھی یہاں آئے ہیں جبکہ وہ ساری دنیا گھوم رہے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو گمراہ کرتے ہوئے وہ اقتدار میں برقرار رہ سکتے ہیں۔ تمام اداروں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔ ملک ایسے نہیں چلایا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھی اپنے گھر میں بیٹھی رہ سکتی تھیں۔ وہ باہر آئیں کیونکہ ملک خطرہ میں ہے ۔ ملک کا دستور خطرہ میں ہے ایسے میں عوام کو سمجھداری سے ووٹ دینا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی راہول گاندھی جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جملے نہیں ارادے ہیں۔ اور ہم کام کرتے ہیں اور ہم نے کسانوں کے قرض معافی کے وعدہ کو راجستھان اور مدھیہ پردیش میں پورا کر دکھایا ہے ۔ پرینکا گاندھی نے مشرقی اترپردیش کے سہ روزہ دورہ کے ساتھ پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا ۔ وہ الہ آباد تا وارناسی کشتی میں 100 کیلومیٹر کا سفر کرینگی ۔ وارناسی وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب ہے ۔ وہ کئی مندروں کا بھی دورہ کرینگی اور اترپردیش کے سیاسی ماحول میں جگہ بنانے کی کوشش کرینگی جبکہ گذشتہ تین دہوں سے یہاں کانگریس پارٹی زوال پذیر ہے ۔ پرینکا گاندھی نے اپنے دریائی سفر کا سنگم کا دورہ کرتے ہوئے اور وہاں پارٹی ورکرس کے ساتھ پوجا کرتے ہوئے آغاز کیا ۔ انہوں نے ڈوم ڈوما گھٹ پر توقف کیا ۔ ان کے ساتھ پارٹی کے دوسرے قائدین بھی تھے ۔ پرینکا نے کہا کہ وہ یہاں تقاریر کرنے کی بجائے عوام کے مسائل سے واقفیت حاصل کرنے آئی ہیں۔ انہوں نے رائے دہندوں پر زور دیا کہ وہ ایسی حکومت قائم کریں جو ان کیلئے کام کرتی ہو ۔ عوام کانگریس کو اقتادر سونپیں تاکہ ان کے مسائل کی یکسوئی ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ریتی نکالنے کے حقوق کشتی رانوں کو نہیں دئے جا رہے ہیں جو گنگا کے پتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی صدر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ان کیلئے ایک علیحدہ وزارت قائم کی جائے گی ۔ سرسا گھاٹ پر انہوں نے کہا کہ رائے دہندوں نے کانگریس کی حکومتیں دیکھی ہیں جن کے دوران قومی ضمانت روزگار جیسی اسکیمات شروع ہوئیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے دور میں ملازمتوں کا فقدان ہوگیا ہے ۔ بھدوہی ضلع میں سیتامڑھی کے مقام پر رات میں توقف کے بعد کانگریس لیڈر کل صبح اپنے سفر کا دوبارہ آغاز کرینگی جو چہارشنبہ کو وارناسی میں ختم ہوگا ۔ کشتی میں پرسکون انداز میں بیٹھی ہوئی پرینکا گاندھی لوگوں کو دیکھ رہی تھیں جبکہ مقامی لوگ دریا کے کنارے کھڑے ہوکر انہیں اپنے مسائل سے واقف کروا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ دریائے گنگا مساوات اور سچائی کی مثال ہے ۔ گنگا اترپردیش کی لائیف لائین ہے اور اس کی مدد سے وہ عوام تک پہونچیں گی ۔ اتوار کی رات کو لکھنو سے یہاں پہونچنے پر پرینکا گاندھی کا پرتپاک استقبال کیا گیا ۔ عوام نے پرینکا گاندھی کی تائید میں نعرے بھی لگائے ۔وہ کل بھی عوام سے خطاب کرینگی

TOPPOPULARRECENT