سندھیا تھیٹر واقعہ کے مہلوک اور زخمیوں کو معاوضہ کی عدم ادائیگی پر استفسار
حیدرآباد۔6۔اگسٹ۔(سیاست نیوز) قومی انسانی حقو ق کمیشن نے چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سندھیا تھیٹر واقعہ میں خاتون کی ہلاکت اور بچوں کے زخمی ہونے کے واقعہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے 5لاکھ روپئے معاوضہ اعلان نہ کئے جانے کے متعلق استفسار کیا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن نے سندھیا تھیٹر واقعہ کا ازخود نوٹ لیتے ہوئے کی گئی کاروائی میں پولیس اور انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور استفسار کیا کہ کیوں مہلوک اور زخمیوں کے لئے معاوضہ کا اعلان نہیں کیاگیا ۔ کمیشن نے چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ کو جاری کی گئی تحفظ انسانی حقوق قوانین 1993کی دفعہ 18 کے تحت مہلوک ریوتی کے افراد خاندان کو 5 لاکھ روپئے معاوضہ کی ادائیگی کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے پولیس کی جانب سے اجازت نہ دیئے جانے کے باوجود بھی سندھیا تھیٹر میں خصوصی شو کے انعقاد پر کی جانے والی کاروائی کے متعلق استفسار کیا۔ انسانی حقوق کمیشن میں جاری مقدمہ کے دوران اڈیشنل کمشنر کی جانب سے 20مارچ کو داخل کی گئی رپورٹ پر بھی کئی استفسار کئے۔پولیس کی جانب سے پیش کردہ تفصیلی رپورٹ اور صفائی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں اس بات کی وضاحت موجود نہیں ہے کہ سندھیا تھیٹر کے خصوصی شو کے لئے اجازت دی گئی تھی یا نہیں اگر دی گئی تھی تو ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لئے کیا اقدامات کئے گئے تھے!کمیشن کو پیش کی گئی رپورٹ میں پولیس نے سندھیا تھیٹر میں لاٹھی چارج کی تردید کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ خصوصی شو کے لئے پولیس کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی تھی اور تلگو فلم اسٹار پولیس کی جانب سے اجازت مسترد کئے جانے کے باوجود خصوصی شو میں شرکت کے لئے سندھیا تھیٹر کے خصوصی شو میں پہنچے تھے۔3