کسی بھی وزیر کا فیصلہ بدلنے کا اختیار، مہاراشٹرا حکومت کا نیا نوٹیفکیشن
ممبئی18؍اگست ( یو این آئی ) چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فڑنویس کے اختیارات میں اہم اضافہ کیا گیا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جاری نئے نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعلیٰ کو اب وسیع تر عوامی مفاد میں کسی بھی وزیر کی جانب سے لئے گئے فیصلے کو تبدیل یا منسوخ کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہوگا۔ تاہم نیم عدالتی نوعیت کے معاملات اس اختیار کے دائرے سے باہر رہیں گے ۔ نئے ضابطے کے تحت وزیراعلیٰ کو متعلقہ فیصلے میں مداخلت یا اسے تبدیل کرنے کی وجوہات تحریری طور پر درج کرنا ہوں گی۔ریاستی حکومت نے ’مہاراشٹرا گورنمنٹ رولز آف بزنس‘ 2026کے تحت یہ تبدیلی کی ہے ۔ نئے قواعد کے مطابق کسی محکمے کے کام کاج کی بنیادی ذمہ داری بدستور اس محکمے کے انچارج وزیر کی ہوگی، تاہم عوامی مفاد میں ضرورت محسوس ہونے پر وزیراعلیٰ کسی وزیر کے فیصلے کو نظرثانی کے لئے اپنے اختیار میں لے سکتے ہیں اور مقررہ طریقہ کار کے تحت اسے تبدیل بھی کرسکتے ہیںنئے قواعد کے تحت وزیراعلیٰ کسی بھی محکمے سے متعلق فائلیں اور دستاویزات طلب کرسکتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ کسی معاملے کے کاغذات طلب کرتے ہیں تو متعلقہ وزیر اور محکمہ کے سیکریٹری کیلئے یہ دستاویزات وزیراعلیٰ کو فراہم کرنا لازمی ہوگا۔