چیف منسٹر مجھے یا پارٹی کو ہاتھ لگا کر دکھائیں ‘ ہم خوفزدہ ہونے والے نہیں

   

13 فروری کو نلگنڈہ میں جلسہ عام کے ذریعہ حکومت کے خلاف آر پار کی لڑائی شروع کرنے کا اعلان کیا
حیدرآباد 6 فروری ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے کانگریس حکومت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اور ان کی پارٹی کو ہاتھ لگا کر دکھانے کا چیف منسٹر ریونت ریڈی کو چیلنج کیا ۔ تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے 13 فروری کو نلگنڈہ میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔ سابق چیف منسٹر کے سی آر تین ماہ بعد پارٹی ہیڈکوارٹر تلنگانہ بھون پہونچے جہاں انہوں نے دریائے کرشنا کے طاس والے متحدہ اضلاع کے بی آر ایس ارکان اسمبلی ارکان کونسل اور پارٹی کے اہم قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کیلئے جدوجہد کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سیاسی کیرئیر میں ریونت ریڈی جیسے کئی قائدین کو دیکھ چکے ہیں اور کسی سے ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں اور نہ تلنگانہ مفادات کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ کریں گے ۔ کے سی آر نے کہا کہ کانگریس حکومت دریائے کرشنا کے آبپاشی پراجکٹس کو ( کے آر ایم بی ) کے حوالے کردیا وہ جب چیف منسٹر تھے تب مرکزی حکومت نے ان پر پراجکٹس حوالے کرنے دباؤ ڈالا تھا مرکزی وزیر جل شکتی گجیندر سنگھ شیخاوت نے انہیں دھمکایا تھا تب بھی وہ مرکز کے سامنے نہیں جھکے انہیں دوٹوک کہہ چکے تھے میری حکومت کو اقتدار سے بیدخل کردو یا صدر راج نافذ کردو تلنگانہ سے نا انصافی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی ان کے پارٹی کے خلاف زہر اگل رہے وہ ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہے ۔ کانگریس حکومت مخالف تلنگانہ مفادات پر کام کررہی ہے ۔ تلنگانہ آبپاشی پراجکٹس کے حقوق کا تحفظ کرنے 13 فروری کو نلگنڈہ میں بڑا جلسہ عام منعقد کیا جائے گا اور آر پار کی لڑائی شروع کی جائے گی ۔ پہلے تحریک چلاتے ہوئے علحدہ تلنگانہ حاصل کیا گیا ۔ اب اسی جذبہ کے تحت تلنگانہ کے حقوق کا تحفظ کرنے جدوجہد کی جائے گی ۔ حکومت کا رویہ ریاست کیلئے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے ۔ حکومت کی غلطیوں سے محبوب نگر ، رنگاریڈی ، کھمم ، نلگنڈہ کے علاوہ دوسرے اضلاع کو نقصان ہوگا ۔ کانگریس حکومت کے پاس معلومات کا فقدان ہے جس سے مستقبل میں تلنگانہ خشک سالی کا شکار ہوجائیگا ۔ متحدہ اضلاع حیدرآباد ، رنگاریڈی ، نلگنڈہ ، کھمم ، محبوب نگر کے عوام کو پینے کا پانی نہیں ملے گا ۔۔ 2