چیف منسٹر نے بگڑتے ہوئے تعلیمی معیار پر تشویش کا اظہار کیا

   

کونسل میں محکمہ تعلیم کے مباحث میں حصہ لیا اور ارکان سے تجاویز وصول کیا
حیدرآباد /26 مارچ ( سیاست نیوز ) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے تعلیمی شعبہ دن بہ دن بگڑنے پر تشویش کا اظہار کیا ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں آج چیف منسٹر ریونت ریڈی نے محکمہ تعلیم پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2021 میں تیسرے اور پانچویں کلاسیس کے طلبہ کا نیشنل اچومنٹ نے سروے کا انعقاد کیا ہے۔ اس سروے کے مطابق 75 فیصد طلبہ نے معمول کے مطابق بھی صلاحیتوں کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ اس سروے میں تلنگانہ کا رینک آخری سے پانچویں نمبر پر ہے ۔ تیسری جماعت کے طلبہ تلگو ، ہندی ، انگلش میں تعلیم کے لحاظ سے36 ویں مقام پر ہے۔ ملک کے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں تلنگانہ آخری مقام پر ہے ۔ سرکاری اسکولس میں پانچویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ دوسری جماعت کی کتابیں پڑھنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ تعلیمی نظام دن بہ دن کمزور پڑتا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد 11 ہزار سے زیادہ ٹیچرس کا تقرر کیا گیا۔ 21 ہزار سے زیادہ ٹیچرس کو ترقی دی گئی ۔ تقریباً 8 سال سے زیر التواء 36 ہزار ٹیچرس کے تبادلے کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ کلکٹرس کے تبادلے کرنا آسان ہے مگر ٹیچرس کے تبادلے کرنا آسان نہیں ہے ۔ سرکاری اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ پر 1.08 لاکھ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ خانگی اسکولس پر 50 ہزار روپئے خرچ ہوں تو سرکاری اسکولس میں ایک لاکھ روپئے کے اخراجات ہیں ۔ بجٹ میں تعلیم پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے 23,108 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ۔ تعلیمی شعبہ پر بھاری رقم مختص کرنے کے باوجود تعلیمی معیار گھٹ رہا ہے ۔ اس کے لئے صرف حکومت کو ہی نہیں سارے سماج کو ذمہ داری قبول کرنا چاہئے ۔ مسئلہ کی تہہ تک پہونچکر جائزہ لینے پر بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کیلئے ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیا گیا ہے اور وہ کونسل کی نمائندگی کرنے والے ارکان سے بھی صحتمندانہ تجاویز پیش کرنے کی اپیل کی ہیں۔ سالانہ ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ انجینئیرنگ کی تعلیم مکمل کر رہے ہیں کمپنیوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ معیاری تعلیم ہنر سے واقف 15 ہزار طلبہ بھی دستیاب نہیں ہو رہے ہیں۔ اسکل نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ کو روزگار نہیں مل رہا ہے ۔ کانگریس حکومت اسکل یونیورسٹی قائم کر رہی ہے ۔ 2