واشنگٹن : سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب ہماری مدد کرنا چاہتا تھا لیکن جو بائیڈن نے ان کی بے عزتی کی۔ فاکس نیوز کو انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ آپ دیکھیں سعودی عرب کے ساتھ کیا ہوا، وہ عظیم لوگ ہیں اور ہماری مدد کرنا چاہتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جب بائیڈن وہاں گئے تو انہوں نے وہاں مْکا ملایا، آپ جانتے ہیں مکا ملانے کا مطلب ہے کہ میں آپ سے ہاتھ نہیں ملانا چاہتا کیونکہ آپ کے ہاتھ گندے ہیں۔فاکس نیوز کے ٹکر کارلسن نے سے ایک گھنٹہ طویل انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ میں کبھی ہاتھ ملانے سے نہیں کتراتا، یہ میرا طریقہ نہیں اور میں ایسا نہیں کرتا۔اس موقع پر انہوں نے چینی صدر ژی جن پنگ کو اسمارٹ اور ذہین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورا ہالی ووڈ گھوم لیں اْن جیسا کردار ادا کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے اور ہمارے بہت اچھے تعلقات ہیں۔مجرمانہ الزامات کا سامنا کرنے والے پہلے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر وہ اپنے خلاف دائر کیے گئے جعلی کاروباری ریکارڈز کے جرم میں سزا پاتے ہیں تو اس کے باوجود بھی وائٹ ہاؤس واپسی کے لیے کوششیں ترک نہیں کریں گیامریکی آئین کے تحت اگر کسی فرد پر فرد جرم عائد کی جائے یا مجرم قرار دے دیا جائے تو بھی اسے انتخابات میں کھڑے ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔تاہم، ٹرمپ نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ جو بائیڈن 2024 میں ہونے والے انتخابات میں بطور امیدوار کھڑے ہوں گے، میرا یہ کہنا نامناسب ہو گا لیکن مجھے نہیں پتا یہ کیسے ممکن ہو گا اور اس بات کا تعلق ان کی عمر سے نہیں ہے۔