ڈاکٹرس کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے مایوس کن ردعمل

   

5 دن میں صرف 1000 درخواستیں وصول ، خانگی پراکٹس پر پابندی اصل وجہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ڈاکٹرس کی جائیدادوں پر تقررات کے لیے نوٹیفیکشن کی اجرائی کے باوجود بہت کم لوگ ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں ۔ مختلف سرکاری ہاسپٹلس میں 1326 جائیدادوں پر تقررات کے لیے حکومت نے 23 جولائی کو نوٹیفیکشن جاری کرتے ہوئے آن لائن میں درخواستیں وصول کی جارہی ہیں جن میں 357 ٹیوٹر کی جائیدادوں سے محکمہ صحت نے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ فی الحال 969 جائیدادوں پر میڈیکل ریکروٹمنٹ بورڈ کے ذریعہ تقررات کیے جارہے ہیں ۔ ایم بی بی ایس اہلیت کے حامل ڈاکٹرس کا تقرر کیا جارہا ہے ۔ یہ تمام سیول اسسٹنٹ سرجن کی جائیدادیں ہیں ۔ گذشتہ 5 دن سے ابھی تک صرف 1000 درخواستیں ہی وصول ہوئی ہیں ۔ سال 2018 میں 525 جائیدادوں پر تقررات کے لیے 15 ہزار درخواستیں وصول ہوئی تھی ۔ میڈیکل ریکروٹمنٹ بورڈ کی جانب سے 969 جائیدادوں کے لیے کوئی امتحان کا انعقاد نہیں کیا جارہا ہے ۔ صرف میرٹ ، ویٹیج ، روسٹر پوائنٹس کی بنیاد پر تقررات کا عمل مکمل کیا جارہا ہے ۔ 14 اگست تک درخواستیں داخل کرنے کی آخری تاریخ ہے ۔ اگر زیادہ درخواستیں وصول ہوتے ہیں تو وہی آخری تاریخ ہوگی اگر درخواستیں کم وصول ہوتے ہیں تو آخری تاریخ میں توسیع دینے کے قوی امکانات ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے نئے ڈاکٹرس کے لیے خانگی پراکٹس پر امتناع عائد کردیا ہے ۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ سرکاری ملازمت میں دلچسپی نہیں دیکھا پا رہے ہیں وجہ کچھ بھی ہو حالیہ پانچ دن میں توقع کے مطابق درخواستیں وصول نہیں ہوئے ۔ آن لائن میں جتنی بھی درخواستیں وصول ہوئی ہیں ان میں 99 فیصد امیدوار ایم بی بی ایس تعلیم مکمل کرنے والے ہیں ۔ پی جی تعلیم مکمل کرنے والے ڈاکٹرس ان جائیدادوں پر کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں ۔ پی جی امیدواروں کے صرف ایک فیصد درخواستیں ہیں ۔ فی الحال تقررات کئے جانے والے تمام جائیدادیں پرائمری ہیلت سنٹرس کے ہیں جس کی وجہ سے پی جی تعلیم مکمل کرنے والے پرائمری ہیلت سنٹرس میں خدمات انجام دینے کے لیے دلچسپی نہیں دکھا رہے ہیں ۔۔ ن