ڈگری کالجس کی 8 ہزار سے زائد نشستوں کی کٹوتی

   

10 خانگی کالجس کو اجازت دینے سے انکار، عثمانیہ یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ
حیدرآباد ۔یکم مئی (سیاست نیوز) عثمانیہ یونویرسٹی نے قواعد و ضوابطے کی خلاف ورمی کرنے والے اور بنیادی سہولیات سے محروم خانگی ڈگری کالجس کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کیا ۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے جاریہ تعلیمی سال کیلئے اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی 8,036 ڈگری نشستوں میں کٹوتی کردی ہے جبکہ 10 خانگی کالجس کو اجازت سے انکار کردیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کے قواعد کے تحت ماہرین کی کمیٹی کو ہر تین سال میں ایک بار کالجس کا معائنہ کرنا لازمی ہے ۔ سال 2019 کے بعد کورونا اور دیگر وجوہات کی بناء پر یہ عمل صرف آن لائین مکمل کیا گیا تھا لیکن اس بار ڈین ، جوائنٹ ڈائرکٹر اور سبجیکٹ ماہرین پر مشتمل ٹیموں نے زمینی سطح پر کالجس کا تفصیلی معائنہ کیا ۔ اس معائنہ کے دوران کئی کالجس میں پروفیشنل فیکلٹی اور ضروری لیابس و دیگر سہولیات کی کمی پائی گئی ۔ واضح رہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے تحت حیدرآباد ، میڑچل ، رنگا ریڈی اور متحدہ ضلع میدک میں جملہ 1.98 لاکھ ڈگری کی نشستیں موجود ہیں۔ تاہم Degree Online Services Telangana (DOST) کے تحت آنے والے کالجس میں پہلے نشستوں کی تعداد 1.54 لاکھ تھی جو اب گھٹ کر 1,45,904 رہ گئی ہیں۔ صدرنشین ہائرایجوکیشن پروفیسر لمبادری اور DOST کنوینر بالا کشٹا ریڈی نے بتایا کہ DOST آپشنس کا آغاز ہوگیا ہے ۔ جمعرات تک 47,086 طلبہ نے رجسٹریشن مکمل کیا ۔ اب تک 38,700 امیدوار فیس جمع کرچکے ہیں ۔ پہلے دن 3804 طلبہ نے اپنے پسندیدہ کالجس کیلئے ویب آپشنس کا استعمال کیا ہے ۔ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تعلیم کے معیار کو برقرار رکھنا اور طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے جو کالج بنیادی معیارات پر پورا نہیں اترتے انہیں مستقبل میں داخلوں کی اجازت نہیں دی جائیگی ۔ 2/k/b