صدر ٹرمپ کو وسط مدتی انتخابات میں بڑا سیاسی جھٹکا۔ گھٹتی مقبولیت ، معیشت و مہنگائی پر عوام کی بے اطمینانی بڑی وجوہات
واشنگٹن، 4 نومبر (یو این آئی) امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج میں ڈیموکریٹک پارٹی نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں کا کنٹرول ریپبلکن پارٹی سے چھین لیا ہے ۔ چہارشنبہ کو سامنے آنے والے انتخابی تخمینوں کے مطابق یہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیلئے ایک بڑا سیاسی جھٹکا ہے ۔ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت اور معیشت و مہنگائی کے حوالے سے عوامی بے اطمینانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈیموکریٹس نے ملک بھر میں سینیٹ کی کئی ریپبلکن نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ یہاں تک کہ روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط سمجھے جانے والے ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے اپنی جگہ بنائی، جس سے کانگریس (پارلیمنٹ) میں طاقت کا توازن بدل گیا۔اس انتخاب میں سب سے اہم کامیابی مشی گن میں ملی، جہاں ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کیلئے منتخب ہونے والے پہلے مسلم امریکی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ میڈیا کے انتخابی تخمینوں کے مطابق، پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور صحتِ عامہ کے سابق عہدیدار السید نے ڈیٹرائٹ میں انتخابی کامیابی کا اعلان بھی کیا۔ انتخابی تخمینوں کے مطابق ڈیموکریٹس نے کنساس، آئیووا، مین، اوہائیو، ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا اور شمالی کیرولائنا سمیت کئی دیگر ریاستوں میں بھی سینیٹ کی نشستیں جیتیں۔کنساس میں ڈیموکریٹ امیدوار ایڈم ہیملٹن نے سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ یہ ریاست میں ڈیموکریٹس کیلئے ایک اہم کامیابی ہے ، جہاں تقریباً ایک صدی سے کسی ڈیموکریٹ امیدوار نے سینیٹ کا انتخاب نہیں جیتا تھا۔آئیووا میں سابق پیرالمپک کھلاڑی جوش ٹورک کے ریپبلکن امیدوار کو شکست دے کر ریپبلکن سینیٹر جونی ارنسٹ کی نشست حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے ۔مین میں ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن نے تقریباً تین دہائیوں سے سینیٹ میں ریاست کی نمائندگی کرنے والی ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کو شکست دی۔اوہائیو میں ڈیموکریٹ شیروڈ براؤن کے سینیٹ کی نشست دوبارہ حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جبکہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو کی کامیابی کے تخمینے بھی سامنے آئے ۔جنوبی کیرولینا میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار اینی اینڈریوز نے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کو شکست دی۔الاسکا میں سینیٹ کی نشست پر مقابلہ انتہائی سخت رہا اور وہاں کے نتائج کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا۔ڈیموکریٹس کی کامیابی پر سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان نتائج نے عوام کی پسند اور ناپسند کو واضح کردیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ آج امریکی عوام نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایسی سیاست چاہتے ہیں جو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے اور ایسے رہنما چاہتے ہیں جو ان کے مسائل کے ٹھوس حل پیش کریں۔
امریکی عوام تقسیم نہیں اتحاد چاہتے ہیں : بارک اوباما
واشنگٹن: 4 نومبر (یو این آئی ) سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ڈیموکریٹ پارٹی کی انتخابی کامیابی کو امریکی عوام کی جانب سے تبدیلی کی خواہش کا واضح اظہار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر ایسی سیاست اور قیادت چاہتے ہیں جو معاشرے کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کرے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بارک اوباما نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکی عوام نے انتخابی نتائج کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے۔ان کے بقول عوام ایسے رہنماؤں کے خواہاں ہیں جو ان کے روزمرہ مسائل کا عملی حل پیش کریں اور ملک میں اتحاد کو فروغ دیں۔اوباما نے اپنے پیغام میں کہا کہ اب ڈیموکریٹ پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ عملی اقدامات کرے، جہاں اسے اختیار حاصل ہے وہاں تبدیلی لائے، مزید نقصان کو روکے اور مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھے۔سابق امریکی صدر نے انتخابی مہم کے دوران مشی گن اور جارجیا سمیت اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت میں مہم چلائی تھی۔ ان کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔اوباما کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹ قیادت انتخابی نتائج کو عوام کی جانب سے موجودہ سیاسی طرزِ عمل میں تبدیلی کے مطالبے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے اپنے پیغام میں آئندہ کے لیے عملی اقدامات اور دستیاب سیاسی اختیار کو استعمال کرنے پر زور دیا ہے۔