پارٹی حلقوں میں ہلچل، قیاس آرائیوں کے برخلاف اعلان پر سب کوحیرت
حیدرآباد۔5۔ستمبر۔(سیاست نیوز) کونڈا سریکھا کو کابینہ سے برطرف کئے جانے کے بعد بھی پارٹی میں رہنے کے فیصلہ نے پارٹی قائدین میں ہلچل پیدا کردی ہے ۔ کونڈا سریکھا کے تحمل نے ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے پارٹی کو مجبور کرنے والوں کو پریشانی میں مبتلاء کردیا ہے کیونکہ کونڈا سریکھا کو کابینہ سے برطرف کئے جانے کے بعد قیاس کیا جارہاتھا کہ ریاستی حکومت اور کانگریس پارٹی کے فیصلہ کے بعد کونڈا سریکھا پارٹی سے مستعفی ہوجائیں گی اور بی جے پی یا بی آرایس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھیں گی لیکن انہوں نے توقعات کے برخلاف اس بات کا اعلان کیا کہ وہ کانگریس میں رہتے ہوئے رکن اسمبلی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی رہیں گی۔ کانگریس پارٹی قائدین جو کونڈا سریکھا کو کابینہ سے برطرف کرنے میں سرگرم تھے وہ اب مجلس بلدیہ عظیم تر ورنگل کے انتخابات کے متعلق فکر مند ہوچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کونڈا سریکھا اب اپنی طاقت کا اندازہ کروانے کے لئے آئندہ اسمبلی انتخابات تک کا انتظار نہیں کریں گی بلکہ جس طرح ٹی جیون ریڈی نے بلدی انتخابات کے دوران اپنی سرگرمیاں انجام دی ہیں اسی طرح مخالف پارٹی امیدوار اپنے امیدواروں کو آزاد میدان میں اتارتے ہوئے انہیں کامیاب کروانے کی کوشش کریں گی۔ذرائع کے مطابق کونڈا سریکھا اور کونڈا مرلی نے اپنے حامیوں سے بات چیت کے دوران یہ بات واضح کردی ہے کہ ان کے ساتھ اختیار کردہ رویہ کے بعد ان کے حامیوں کو کسی نامزد عہدہ پر یا آئندہ مجلس بلدیہ عظیم تر ورنگل کے انتخابات میں ٹکٹ کی کوئی توقع نہیں ہے اور اس کے باوجود بھی کوئی ان کے ساتھ رہنے کے خواہاں ہے تو وہ ان کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوشش کریں گے ۔کونڈا سریکھا کے فیصلہ نے جہاں اپوزیشن جماعتوں بالخصوص بھارتیہ جنتاپارٹی اور بھارت راشٹر سمیتی کو حیرت میں مبتلاء کردیا ہے وہیں کانگریس پارٹی قائدین متحدہ ورنگل میں پارٹی کے موقف کے متعلق فکرمند ہونے لگے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا اندازہ ہے کہ اگر ’’کونڈا‘‘ خاندان مخالف پارٹی سرگرمیوں یا مخالف حکومت سرگرمیوں کا حصہ بنتے ہیں تو ایسی صورت میں ورنگل کے بیشتر حلقہ جات اسمبلی پر وہ اثر انداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی لئے حکومت کونڈا سریکھا اور ان کے خاندان کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ کونڈا سریکھا کی دختر نے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی اور ان کے بھائیوں پر بدعنوانیوں کے الزامات اور شواہد کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سی بی آئی کو روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔H/3