کاروان اور دیگر علاقوں میں آلودہ پانی کی سربراہی سے عوام میں بیماریاں

   

مچھروں کی افزائش روکنے میں حکام ناکام، اسمبلی میں کوثر محی الدین کی توجہ دہانی
حیدرآباد 18 مارچ (سیاست نیوز) مجلس کے رکن کوثر محی الدین نے شہر کے کئی علاقوں میں واٹر ورکس کی جانب سے آلودہ پانی کی سربراہی کی شکایت کی اور کہاکہ عوام کو مختلف بیماریوں کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔ اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران کوثر محی الدین نے کہاکہ نہ صرف اُن کے انتخابی حلقہ بلکہ شہر کے دیگر علاقوں میں آلودہ پانی کی سربراہی کی شکایات عام ہیں۔ محکمہ واٹر ورکس کو اِس سلسلہ میں بارہا توجہ دلائی گئی لیکن کوئی تدارک نہیں کیا گیا۔ رکن اسمبلی نے کہاکہ حیدرآباد کو سابق میں حمایت ساگر، عثمان ساگر، سنگور اور مانجرا سے پانی سربراہ کیا جاتا رہا لیکن فی الوقت دریائے کرشنا مرحلہ سوم کے تحت شہر کو پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ واٹر پائپ لائن میں کسی بھی خرابی کی صورت میں کئی دن تک سربراہی متاثر ہورہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کاروان کے کئی علاقوں میں گزشتہ 15 دن سے لو پریشر کی شکایت عام ہے۔ رمضان المبارک کے دوران پانی کی مؤثر سربراہی کے بجائے عوام کو مشکلات میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ مجلسی رکن نے کاروان میں مچھروں کی کثرت کا حوالہ دیا اور کہاکہ جی ایچ ایم سی حکام کی لاپرواہی کے سبب عوام ملیریا اور ڈینگو جیسے امراض کا شکار ہورہے ہیں۔ وزیر جنگلات کونڈہ سریکھا نے اِس سلسلہ میں ضروری کارروائی کا تیقن دیا۔ 1