کالیشورم پراجکٹ بدعنوانیوں کی سی بی آئی تحقیقات، مرکز کو تلنگانہ حکومت کا مکتوب

   

عوامی نمائندے، عہدیدار اور کنٹراکٹرس تحقیقات کے دائرہ میں شامل، وزارت داخلہ سے جی او کی اجرائی
حیدرآباد 2 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے کالیشورم پراجکٹ اور اُس سے مربوط بیاریجس کی تعمیر میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ سی بی آئی کو تفویض کرتے ہوئے احکامات جاری کئے ہیں۔ اسپیشل چیف سکریٹری ہوم روی گپتا نے جی او ایم ایس 104 جاری کیا جس کے تحت نیشنل ڈیم سیفٹی اتھاریٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر سی بی آئی کو تحقیقات حوالہ کی گئی ہیں۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ میڈی گڈہ، انارم اور سندیلڈہ بیاریجس کی تعمیر میں مبینہ بے قاعدگیوں اور عوامی رقومات کے زیاں کی جانچ کی جائے۔ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھاریٹی نے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ پراجکٹ کی پلاننگ، ڈیزائن، معیار اور تعمیر میں مبینہ طور پر بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی اور تلنگانہ حکومت نے رپورٹ کی بنیاد پر سی بی آئی سے تحقیقات کی خواہش کی ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس پی سی گھوش کمیشن نے بھی اپنی رپورٹ میں کئی ایک بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سابق حکومت میں شامل افراد اور کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ جی او میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے اسمبلی میں نیشنل ڈیم سیفٹی اتھاریٹی کی رپورٹ پر مباحث کا اہتمام کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ حکومت نے پی سی گھوش کمیشن رپورٹ کی بنیاد پر سی بی آئی سے تحقیقات کی خواہش نہیں کی کیوں کہ کے سی آر اور ہریش راؤ نے پی سی گھوش کمیشن رپورٹ کو تلنگانہ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ تحقیقات کو یقینی بنانے حکومت نے نیشنل ڈیم سیفٹی اتھاریٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنایا۔ 21 اکٹوبر 2023ء کو میڈی گڈہ بیاریج بلاک 7 کے 5 پلرس زمین میں دھنس گئے تھے۔ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھاریٹی نے 22 اکٹوبر 2023ء کو میڈی گڈہ بیاریج کے پلرس کو نقصانات کا جائزہ لینے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی نے 24 اکٹوبر 2023ء کو بیاریج کا معائنہ کیا اور یکم نومبر 2023ء کو حکومت کو رپورٹ پیش کردی۔ اتھاریٹی نے یکم اپریل 2024ء کو عبوری رپورٹ جبکہ 24 اپریل 2025ء کو قطعی رپورٹ داخل کی۔ رپورٹ میں میڈی گڈہ بیاریج کی تعمیر میں کئی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے 14 مارچ 2024ء کو جسٹس پی سی گھوش تحقیقاتی کمیشن قائم کیا تھا اور کمیشن نے 31 جولائی 2025ء کو اپنی رپورٹ پیش کردی۔ ریاستی کابینہ میں 4 اگست 2025ء کو تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کو قبول کرتے ہوئے اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور 31 اگست کو اسمبلی میں مباحث کا اہتمام کیا گیا جس کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سی بی آئی تحقیقات کا اعلان کیا۔ تلنگانہ حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے پراجکٹ میں بے قاعدگیوں کی سی بی آئی کے ذریعہ جانچ کی خواہش کی ہے۔ حکومت نے بدعنوانیوں میں ملوث عوامی نمائندوں، کنٹراکٹرس، عہدیداروں اور خانگی کمپنیوں کے معاملات کی جانچ کی اپیل کی ہے۔1