کانگریس جمہوریت کے تحفظ کیلئے عوامی عدالت سے رجوع ہوگی: محمد علی شبیر

   

کانگریس ارکان اسمبلی کا انضمام غیر دستوری، اسپیکر اور وزراء کے سی آر کے غلاموں کی طرح
حیدرآباد۔ 7 جون (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں سابق فلور لیڈر محمد علی شبیر نے کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے ٹی آر ایس میں انضمام کے اسپیکر کے فیصلے کو غیر دستوری قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی جمہوریت اور دستور کے تحفظ کے لیے عوام سے رجوع ہوگی۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی نے اندرون دو گھنٹے کانگریس کے منحرف ارکان کی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ٹی آر ایس کا رکن قرار دے دیا جبکہ گزشتہ دو ماہ سے کانگریس پارٹی نے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف تین مرتبہ نمائندگی کی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوںنے بتایا کہ تین مراحل میں 11 ارکان اسمبلی کے خلاف اسپیکر سے تحریری نمائندگی کی گئی اور منحرف ارکان کے خلاف انسداد انحراف قانون کے تحت کارروائی کی اپیل کی گئی۔ اسپیکر نے تین ماہ تک کانگریس کی نمائندگی کو برفدان کی نذر کردیا اور حکومت کی ہدایت پر منحرف ارکان کی قرارداد کو تسلیم کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کا عہدہ دستوری ہے اور انہیں چاہئے تھا کہ کانگریس کی نمائندگی پر کم از کم ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرتے۔ اسپیکر نے کانگریس پارٹی کو جواب دینے کی زحمت تک نہیں کی۔ حالانکہ ا ن کی ذمہ داری تھی کہ وہ کانگریس کو جواب دیتے کہ کن بنیادوں پر ان کی درخواست قبول نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گورنر اور اسپیکر اپنے دستوری فرائض کو بھول کر کے سی آر کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر حکومت میں وزراء غلاموں کی طرح کام کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسپیکر نے کے سی آر کے غلام کی طرح کارروائی کی ہے۔ کانگریس قائدین سے ملاقات کے لیے اسپیکر دستیاب نہیں رہے لیکن 12 منحرف ارکان سے خفیہ مقام پر ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسپیکر نے سی ایل پی کے انضمام کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر مخالف تلنگانہ جماعتوں کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ تلنگانہ کے لیے قربانی دینے والی جماعتوں کو نقصان پہنچارہے ہیں۔ کانگریس نے تلنگانہ تشکیل دیا لیکن کے سی آر اس میں پھوٹ پیدا کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وائی ایس راج شیکھر ریڈی دور حکومت میں ٹی آر ایس کے 17 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کیئے گئے تھے۔ ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو صرف 7 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ کانگریس 6 اور تلگودیشم کو 5 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمت ہو تو منحرف ارکان کو استعفیٰ دے کر دوبارہ مقابلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور دستور کے تحفظ کے لیے کانگریس عوامی عدالت سے رجوع ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ پارٹی قانونی لڑائی کی تیاری کررہی ہے اور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اسپیکر کے فیصلے کو چیلنج کیا جائے گا۔