حیدرآباد ۔27۔ مئی (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن اسمبلی کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی نے ایک بار پھر اپنی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انتہائی اہم اور سنسنی خیز تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے عوامی مسائل بالخصوص تعلیمی نظام کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر عوام اور طلبہ کے حقوق کے لئے اپنی حکومت سے بھی لڑنا پڑے تو وہ اس کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ ان کے اس تازہ بیان میں ریاست کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیا ہے اور اسے حکومت کے خلاف ایک کھلے چیلنج کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی نے سرکاری اسکولوں کے حالات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے سرکاری تعلیمی اداروں میں مناسب اور بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔ انہوں نے ہاسٹلس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچیکہ حکومت نے میس چارجس میں اضافہ تو کردیا ہے لیکن اس کے باوجو د طلبہ کو فراہم کئے جانے والے کھانے کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طلبہ کی صحت کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے اور انہیں مناسب پروٹین والی معیاری غذا فراہم کی جائے۔ راج گوپال ریڈی نے ترقیاتی منصوبوں کے بجٹ پر بھی بڑا سوالیہ نشانہ کھڑا کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں ہزاروں کروڑوں روپئے کی لاگت سے جو بڑے بڑے پراجکٹ اور منصوبے بنائے جارہے ہیں، ان کی رقم غریبوں پر خرچ ہونے کے بجائے براہ راست کنٹراکٹرس کی جیبوں میں جارہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پراجکٹس پر اندھا دھند ایسے بہانے کے بجائے اتنی ہی خطیر رقم ریاست کے تعلیمی نظام کو سدھارنے اور غریب طلبہ کے مستقبل کو سنوارنے کیلئے خرچ کی جائے۔2/k