عآپ کے 5 مسلم امیدواروں سے سابق چیف منسٹر کی دوری معنی خیز،سنجے سنگھ کو مسلمانوں کی ذمہ داری دی گئی
نئی دہلی : دہلی اسمبلی کی انتخابی مہمپیر کو ختم ہوگئی۔ سابق چیف منسٹراروند کجریوال نے ستمبر میں سی ایم کا عہدہ آتشی کو سونپا تھا اور مشن دہلی شروع کیا تھا۔ گزشتہ ساڑھے چار مہینوں سے کجریوال مسلسل دہلی کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے اور عام آدمی پارٹی کے حق میں سیاسی ماحول بنانے کی کوشش کی ہے لیکن مسلم اکثریتی علاقوں سے دوری برقرار رکھی ہے۔ کجریوال نے دہلی کی کسی بھی مسلم سیٹ پر انتخابی مہم نہیں چلائی، جہاں عام آدمی پارٹی کے مسلم امیدوار اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔کیجریوال نے اپنے امیدواروں کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے دن رات کام کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی نے دہلی کی70 میں سے 5 سیٹوں پر مسلم امیدوارکھڑے کیے ہیں۔ 2015 اور 2020 کے انتخابات میں عام آدمی پارٹی دہلی کی تمام مسلم اکثریتی سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ اس کے باوجود کیجریوال پچھلی بار کی طرح اس بار بھی انتخابی مہم کے لیے مسلم اکثریتی سیٹ پر نہیں آئے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرکیا وجہ ہے کہ کجریوال نے مسلم علاقوں سے دوری برقرار رکھی؟دہلی میں تقریباً13 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔ دہلی کی کل 70 اسمبلی سیٹوں میں سے 8کو مسلم اکثریتی سمجھا جاتا ہے۔ کجریوال نے دہلی کی بالی مارن، سیلم پور، اوکھلا، مصطفی آباد اور مٹیا محل سیٹوں پر مسلم امیدوار کھڑے کیے ہیں۔ ان سیٹوں پر45 سے60 فیصد مسلم ووٹر ہیں۔ تین سیٹوں پر عام آدمی پارٹی کاکانگریس سے براہ راست مقابلہ مانا جا رہا ہے جبکہ مصطفی آباد اور اوکھلا سیٹوں پر اے آئی ایم آئی ایم کی وجہ سے سہ رخی مقابلہ ہے۔2020 کے دہلی انتخابات این آر سی اور سی اے اے تحریک کے سائے میں ہوئے تھے اورکیجریوال دہلی کی تمام مسلم اکثریتی نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئے۔ شاہین باغ تحریک پر بھی سوالات اٹھائے گئے جو اوکھلا علاقہ کے تحت آتا ہے۔ اس کے بعد بھی مسلمانوں نے کجریوال کو بڑے پیمانے پر ووٹ دیا، لیکن اس بار سیاسی صورتحال بدل گئی ہے۔ دہلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کوکافی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود کجریوال نے انتخابی مہم کے لیے کسی بھی مسلم علاقے کا دورہ نہیں کیا۔اس بار دہلی اسمبلی انتخابات میں تبلیغی جماعت مرکز اور دہلی فسادات کا معاملہ مسلم اکثریتی علاقوں میں سنائی دے رہا ہے۔ کانگریس اس معاملے کو زور سے اٹھا رہی ہے۔ یہ دونوں سیاسی مسائل مسلم اکثریتی نشستوں پر اروند کجریوال اور عام آدمی پارٹی کے لیے سیاسی تناؤ کو بڑھاتے نظر آرہے ہیں۔ یہ عام آدمی پارٹی کے پانچوں مسلم امیدواروں کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ سنجے سنگھ کو عام آدمی پارٹی کا سیکولر چہرہ سمجھا جاتا ہے اور مسلمانوں میں بھی ان کی مضبوط گرفت ہے۔ اسی وجہ سے کیجریوال نے انہیں مسلمانوں کو بہلانے کے لیے مقرر کیا ہے۔