کرشنا ٹریبونل کے قیام پر مقدمہ سے دستبردار ہونے کے سی آر تیار

,

   

پوتی ریڈی پاڈو کی توسیع کیلئے آندھراپردیش پراظہار برہمی، تنازعات کی یکسوئی میں تعاون کا تیقن

دریاؤں کے پانی کی تقسیم پر اپیکس کونسل کا اجلاس

حیدرآباد : دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر اپیکس کونسل کا آج اجلاس ہوا۔ مرکزی وزیر جل شکتی گجیندر سنگھ شیخاوت نے ورچول اجلاس کی صدارت کی جس میں چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر راؤ اور چیف منسٹر آندھراپردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے آن لائن شرکت کی۔ کے سی آر نے کرشنا اور گوداوری دریاؤں کے پانی پر تلنگانہ کے حقوق اور حقائق سے متعلق تمام اعداد و شمار و تفصیلات پیش کیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ کو بین ریاستی دریاؤں کے پانی میں اپنا جائز حصہ حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ تلنگانہ ریاست اپنا وہ حصہ حاصل کرے گی جو اُس نے مشترکہ آندھراپردیش میں کھویا تھا۔ کے سی آر نے پوتی ریڈی پاڈو پراجکٹ پر غیرقانونی تعمیرات اور توسیع کے لئے آندھراپردیش پر برہمی کا اظہار کیا اور کہاکہ اگر وہ اُس سے گریز نہیں کرے گا تو عالم پور سے تلنگانہ 3 ٹی ایم سی پانی حاصل کرے گا۔ تلنگانہ حکومت اِس کے لئے عالم پور ۔ پدا مرور پر بیاریج تعمیر کرے گی۔ مرکزی وزیر نے تلنگانہ کے مطالبہ کو تسلیم کیا تاہم اُنھوں نے کہاکہ یہ مسئلہ زیردوران ہے لہذا وہ اِس پر کارروائی نہیں کرسکتے جس پر چندرشیکھر راؤ نے فوری جواب دیا کہ اگر بغیر کسی تاخیر کے کرشنا ٹریبونل کے قیام کا مرکزی حکومت اعلان کرتی ہے تو وہ مقدمہ سے وہ فوری دستبردار ہوجائیں گے۔ چندرشیکھر راؤ نے اپیکس کونسل کے علم میں یہ بات لائی کہ اے پی تنظیم جدید قانون کی دفعہ 89 کے مطابق دریا کا پانی ریاست کے اندر طاس میں ہی پہنچایا جاسکتا ہے باہر نہیں۔ مرکزی وزارت نے اِس سے اتفاق کیا۔ کے سی آر نے بتایا کہ تلنگانہ میں زیرتعمیر پراجکٹس نئے نہیں ہیں بلکہ یہ تمام پراجکٹس متحدہ آندھراپردیش کے دور میں ہی شروع کئے گئے تھے۔ ریاست کو مختص کردہ 867.94 ٹی ایم سی پانی کے مطابق ہی دریائے گوداوری پر پراجکٹس تعمیر کئے جارہے ہیں۔ مرکزی وزیر نے دونوں ریاستوں کو مشورہ دیا کہ وہ گوداوری ٹریبونل کے قیام کے لئے مرکزی حکومت کو اپنی درخواست روانہ کریں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے ایپکس کونسل کا اجلاس اِس سے قبل ملتوی ہوا تھا تاہم آج اس کا انعقاد عمل میں آیا۔