نیویارک : اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ وہ اس بات کے بارے میں بڑے واضح ہو چکے ہیں کہ غزہ جنگ کا کوئی فریق بھی جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔ انہوں نے اس امر کا اظہار میڈیاکے ساتھ ہونے والی گفتگو میں کیا ہے۔ گوٹیرس کا کہنا تھا کہ میں بہت اچھی طرح یہ سمجھ گیا ہوں کہ غزہ میں جنگ کو روکنے کے لیے کوئی ایک فریق بھی دلچسپی نہیں رکھتا اور یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے ضرور بند ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی چاہتا ہے نہ حماس جنگ بندی چاہتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس جنگ کا خطرہ لبنان میں منتقل ہو رہا ہے اور وہ ایک اور غزہ بننے جا رہا ہے۔یو این سکریٹری جنرل نے اس امر کا اظہار اس وقت کیا ہے جب دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی میں سنجیدہ نہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے ہر مذاکراتی مرحلے کے موقع پر نئی تجاویز پیش کی جاتی ہیں جبکہ حماس کا کہنا ہیکہ امریکی صدر جوبائیڈن کے پیش کردہ جنگی بندی فارمولے اور جون میں سلامتی کونسل کی طرف سے اس کی تائید کی روشنی میں جو اتفاق تمام فریقوں نے ماہ جولائی میں کرلیا تھا اسی سے آگے بڑھنا چاہیے۔ بجائے اس کے کہ نئی نئی تجاویز ہر مذاکراتی نشست میں پیش کر کے مذاکراتی عمل کو پیچھے کی طرف کھینچا جاتا رہے۔اب تک اس جنگ میں لگ بھگ 41300 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد عورتوں اور بچوں کی تعداد ہے۔ تقریباً ایک سال سے جاری اس جنگ میں اسرائیلی فوج نے بلا ناغہ بمباری کی ہے۔ تاہم ابھی اپنے یرغمالیوں کو رہائی دلانے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں رواں سال کا سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس دوران اسرائیل نے لبنان کے اندر تباہ کن اور حیران کن حملے کیے ہیں جبکہ اسرائیلی وزیردفاع بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی جنگ کو لبنان کی طرف لا رہے ہیں۔ انٹونیو گوٹیرس نے بھی اس طرف نشاندہی کی ہے کہ جنگ لبنان منتقل ہو رہی ہے۔ حزب اللہ نے بھی پچھلے چند دنوں میں اسرائیل کے اندر راکٹ فائر کرنے کی کوشش کی ہے جس سے کئی جگہوں پر سائرن بجنے اور سراسیمگی پھیلنے کی اطلاعات ملی ہیں۔حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ان کا گروپ اسرائیل کے خلاف جنگ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔