حکومت تمام ریکارڈز جمع کرنے میںمصروف ۔ بھاری بلز وصولی کا بھی جائزہ
حیدرآباد۔26۔ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت سابقہ حکومت کی بدعنوانیوں کی تحقیقات میں کورونا وائرس دورمیں ہونے والی بے قاعدگیوں کی تحقیقات کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے! ذرائع کے مطابق حکومت سے کورونا اور لاک ڈاؤن میں نئے دواخانوں اور قرنطینہ مراکز کے قیام پر ہونے والی بے قاعدگیوں اور ادویات کی خریدی میں دھاندلیوں کی بھی تحقیقات کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت سے نئے دواخانوں کی تعمیر کیلئے جاری ٹنڈرس اور کورونا دور میں ہنگامی فنڈس کے استعمال اور مریضوں سے بے تحاشہ بلوں کی وصولی کے معاملات کی جانچ کی تحقیقات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے ۔ محکمہ صحت کے مطابق حکومت سے گذشتہ 5برسوں میں محکمہ صحت کو مختص فنڈس اور ان کے استعمال کے علاوہ ہنگامی فنڈس کے استعمال کی تفصیلات طلب کی جا رہی ہیں اور جن اداروں اور تاجرین سے طبی آلات ‘ بستر اور دیگر اشیاء خریدی گئی ہیں ان کی تفصیلات حاصل کرنے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ نئے دواخانوں کی تعمیر اور قرنطینہ مراکز کے نام پر کروڑہا روپئے کے آلات اور ادویات کی خریدی کے دعوے کئے گئے جن کی تحقیقات کے ساتھ کورونا وائرس دور میں مریضوں سے علاج کیلئے دواخانوں میں بے تحاشہ بلوں کی وصولی کی شکایات کی تحقیقات اور کارپوریٹ دواخانوں کے خلاف کاروائیوں کی تفصیلات اکٹھا کی جا رہی ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق کورونا دور میں مریضوں سے بے تحاشہ بلز وصول کرنے کی شکایات کے باوجود ان کارپوریٹ دواخانوں کے خلاف کاروائی نہ ہونے کی تفصیلی رپورٹ تیار کرکے حکومت کو پیش کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق نئے دواخانوں اور قرنطینہ کے مراکز کے قیام کے نام پر طبی آلات ‘ بستروں اور دیگر ادویات کی خریدی کے معاملہ میں وزراء کے ملوث ہونے کی شکایات کا جائزہ لیتے ہوئے رپورٹ حکومت کو دینے کا فیصلہ کیاگیا ہے تاکہ جن اداروں سے یہ اشیاء من مانی قیمتوں میں خریدی گئی ہیں ان کی تفصیلات حکومت کے حوالہ کی جاسکیں۔کورونا وائرس کے دور میں ہونے والے بدعنوانیوں اور ہنگامی فنڈس کے بے جا استعمال کے سلسلہ میں تحقیقات کے آغاز پر کئی دھاندلیوں کا انکشاف ہونے کی توقع کی جار ہی ہے اور کہا جار ہاہے کہ حکومت ان تمام تفصیلات کو جلد ہی عوام کے سامنے پیش کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔3