کورونا سے صحت یاب افراد میں مرض گٹھیا کے علامات کا انکشاف

   


متاثرین میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ، ماہرین مزید تحقیق میں مصروف

حیدرآباد۔16 اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں کورونا وائرس کے بعد مختلف بیماریوں کے سلسلہ میں ماہرین کی جانب سے متنبہ کیا جارہاہے لیکن گذشتہ دنوں منظر عام پر آئی ایک تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے والے افراد میں گٹھیا کے امراض پائے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ گٹھیا کے مرض کا شکار ہونے والے مریضو ں میں مردوں کے مقابلہ خواتین کی تعداد زیادہ پائی جانے لگی ہے۔ کورونا وائر س سے صحت یاب ہونے والوں میں معدہ ‘ ذہنی امراض کے علاوہ ہڈیوں کے امراض پیدا ہونے کی تصدیق کے بعد اب منظرعام پر آنے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ جوڑوں میں درد اور سوجن کے مسائل کورونا وائر س کا شکار ہونے والے مریضوں میں پائے جانے لگے ہیں۔محققین کے مطابق بیشترکورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والوں میں گٹھیا کے امراض کی علامات کے پائے جانے کے بعد شروع کی گئی تحقیق کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد صحت مند ہونے والے افراد میں گٹھیا کے امراض کی علامات کا شکار خواتین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔تحقیق میں شامل ڈاکٹرس کا کہناہے کہ مرد اور خواتین میں پائے جانے والے جینیاتی فرق کے سبب کورونا وائرس کا شکار ہونے والی خواتین میں یہ علامات زیادہ پائی جانے لگی ہیں اور جوڑوں کے علاوہ ہاتھوں اور پیروں میں سوجن کی شکایات عام ہوتی جا رہی ہیں۔ماہرین کا کہناہے کہ ان علامات کا شکار ہونے والوں کے مرض کی تفصیلات کے حصول کے دوران اس با ت کا انکشاف ہورہا ہے کہ ان مریضوں میں تین سال قبل تک بھی کوئی علامات نہیں پائی جاتی تھیں لیکن کورونا وائرس کے فوری بعد گٹھیا کے مریضوں کی تعداد میں بھی تیز رفتار اضافہ دیکھا جانے لگا ہے۔بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ 10 سالوں کے دوران گٹھیا کے امراض کا شکار ہونے والوں اور حالیہ عرصہ میں گٹھیا کی علامات کا شکار ہونے والوں کے مرض میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلی کا جائزہ لیا جا رہاہے اور اس بات کی تحقیق کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں آیا مرض کی علامات اور سوجن کی ہئیت میں کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے یا روایتی گٹھیا کی علامات ہی ہیں جن کا شکار کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد مریض ہونے لگے ہیں۔ڈاکٹر س اور اس تحقیق سے وابستہ محققین کا کہناہے کہ مرد اور خواتین میں پائی جانے والی جینیاتی تبدیلیوں کے سبب خواتین جلد ہی اس عارضہ کا شکار ہونے لگی ہیں کیونکہ گٹھیا کے امراض کا تعلق بھی بنیادی طور پر انسان کے اندر موجود قوت مدافعت سے ہی اسی لئے کورونا وائرس کے شکار ہونے کے بعد قوت مدافعت میں آنے والی کمی کے سبب صحت یاب ہونے والے گٹھیا کی علامات کا شکار ہونے لگے ہیں لیکن تحقیق کے بعد ہی اس با ت کی توثیق ہورہی ہے کہ وہ گٹھیا کا شکار ہوئے ہیں جبکہ نوجوان اسے اعضاء شکنی تصور کررہے ہیں۔م