صرف 44 خانگی و کارپوریٹ دواخانوں کا ذکر ، دیگر ہاسپٹلوں کی تفصیلات نظر انداز
حیدرآباد۔25۔مئی (سیاست نیوز) کورونا وائرس کے دور میں دواخانوں کو مجموعی طور پرایک کروڑ 61 لاکھ روپئے واپس کرنے کی ہدایت دی گئی ہے جو کہ 44 دواخانوں کے انتظامیہ نے اپنے مریضوں کو شکایات کے بعد ادا کئے ہیں۔ محکمہ صحت تلنگانہ کی جانب سے قانون حق معلومات کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاستی محکمہ صحت کو موصول ہونے والی شکایات کے بعد 44 دواخانوں کے انتظامیہ کی جانب سے جملہ 1کروڑ 61 لاکھ روپئے واپس کئے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق ریاست بھر میں مجموعی اعتبار سے جملہ 87 شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی جانب سے دواخانہ کے انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیاتھا کہ وہ اضافی رقومات وصول کرنے کے مرتکب ہوئے ہیں اور غیر ضروری معائنہ جات کروارہے ہیں۔ 22جون 2021 تک ریاست کے 44 دواخانوں کی جانب سے جملہ 1کروڑ 61لاکھ 22ہزار484 روپئے کی ادائیگی عمل میں لائی گئی ہے۔ 44 خانگی و کارپوریٹ دواخانوں میں شہر حیدرآباد کے ایسے 4دواخانہ شامل ہیں جن کے انتظامیہ نے 10 لاکھ سے زیادہ کی رقم واپس کی ہے۔ کوکٹ پلی میں واقع اومنی ہاسپٹل نے جملہ 27لاکھ41ہزار کی رقم واپس کی ہے جبکہ دوسرے نمبر پراپل میں واقع TX ہاسپٹل ہے جہاں کے انتظامیہ نے10لاکھ 85ہزار روپئے کی رقم لوٹائی ہے۔ میڈی کوور ہائی ٹیک سٹی کے انتظامیہ نے 10لاکھ 82ہزارلوٹائے ہیں جبکہ سینچری ہاسپٹل انتظامیہ نے 10لاکھ روپئے واپس کئے ہیں۔شہر حیدرآباد کے 8دواخانوں کی جانب سے 5تا 10لاکھ روپئے لوٹائے گئے ہیں اور ایسا کرنے والے دواخانو ںمیں کئیر ہاسپٹل ہائی ٹیک سٹی ‘ پرتیما ہاسپٹل کوکٹ پلی ‘ انکورا ہاسپٹل ایل بی نگر‘ دیا ہاسپٹل ایل بی نگر‘ میڈی کوور ہاسپٹل سیکریٹریٹ ‘ حیدرآباد نرسنگ ہوم بشیر باغ ‘ سن شائن ہاسپٹل گچی باؤلی شامل ہیں۔TX ہاسپٹل کاچی گوڑہ اور ارچنا ہاسپٹل میاں پورکی جانب سے بھی بھاری رقم اپنے مریضوں کو واپس لوٹائی گئی ہے۔لوٹس ہاسپٹل لکڑی کا پل کی جانب سے بھی زائد از تین لاکھ روپئے لوٹانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے قانون حق معلومات کے تحت جاری کی گئی معلومات میں کئی سرکردہ اور غیر معروف دواخانوں کے نام بھی شامل ہیں لیکن ان دواخانوں کے انتظامیہ کے خلاف ریاستی حکومت کی جانب سے کیا کاروائی کی گئی اس بات کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں جبکہ ان دواخانوں کی جانب سے رقم لوٹانے کے اقدامات اس با ت کا ثبوت ہے کہ وہ غلطی پر ہیں لیکن اگر غلطی پر ہونے کے باوجود کاروائی نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں کوئی بھی انتظامیہ اپنی غلطی سدھارنے کے نام پر دھوکہ سے وصول کی گئی دولت واپس کرنے کے بعد اپنے کاروبار جاری رکھیں گے۔م