ملک میں وباء پر کافی حد تک قابو پالیا گیا: نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو
نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ٹیکے سازی کے شعبہ میں کام کرنے والے اداروں نے انسانی زندگیوں کو بچانے کے لئے رات دن محنت کی، سنیٹائزر سے لے کر چہرے کو ڈھانکنے والے ماسک ہوں یا پھر پی پی ای کٹس کے ساتھ سرجیکل دستانے سے لے کر مصنوعی آلہ تنفس (وینٹی لیٹر) اور ٹیکے بڑے پیمانے پر تیار کرنے اور ان کی سپلائی عمل میں لانے کی کوشش کی گئی اور اس معاملہ میں بہت محنت کی گئی۔ قوم نے اپنی بے مثال کوشش کے ذریعہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خود انحصاری سے متعلق ویژن کے جذبہ کو اپنایا۔ اس طرح آتما نربھر بھارت کے ویژن نے ساری دنیا کے سامنے ہم آہنگی اور خود مکتفی سے متعلق کوشش کی روشن مثال پیش کی۔ کورونا وائرس وباء کے دوران ذرائع ابلاغ نے بھی عوام میں شعور بیداری اور وائرس کے مضر اثرات کے علاوہ اس سے بچاؤ کے طریقہ کار سے واقف کروانے میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ صحافیوں نے بہت بہادری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے۔ اس لڑائی میں محاذ پر ٹھہرے رہے اور جب وباء اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی اپنے ملک کو کووڈ ۔ 19 بحران کے باعث ہونے والی تبدیلیوں سے وقت بہ وقت واقف کروانے 24 گھنٹے کام کیا۔
کورونا وائرس کی وباء نے عالمی سطح پر دہشت پھیلا دی اور دنیا کی متمول اقوام کی معیشتوں کو زوال سے دوچار کردیا۔ کسی کو بھی نہیں بخشا۔ ہندوستانی معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ زندگی کا ہر شعبہ کووڈ ۔ 19 اور اس کے بعد نافذ لاک ڈاون سے بری طرح متاثر ہوا۔ ایسے میں ہمارے ملک کے کسان اس کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ٹھہرے رہے۔ ملک کے زرعی شعبہ نے ناموافق حالات میں بھی اپنے قدم جمائے رکھے اور 2020-21 کے دوران زرعی اور اس سے متعلق سرگرمیوں میں 3.4 فیصد نمو درج کیا گیا۔ اسی طرح سال 2019-20 میں 296.65 ملین ٹن کی ریکارڈ پیداوار ہوئی جو گزشتہ سال کی 285.21 ملین ٹنس کے مقابلہ 11.44 ملین ٹن زیادہ رہی۔ سردست ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے مطابق خراب حالات لگتا ہے کہ پیچھے جاچکے ہیں اور معیشت پٹری پر واپس آگئی ہے۔ ہم نے دوسرے ممالک کے ساتھ بھی کورونا پر قابو پانے متحدہ کوشش کی۔ معلومات کا تبادلہ عمل میں لایا۔ تحقیق کے شعبہ میں مشترکہ طور پر کام کیا جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ ہندوستان نے زمانہ قدیم سے ہی ساری دنیا کو یہ پیام دیا تھا کہ ساری دنیا ایک خاندان ہے اور انہیں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اجتماعی ویژن اور کوشش نے ہمیں دنیا کے دیگر ممالک کی بہ نسبت اموات روکنے اور قیمتی جانوں کے اتلاف کو روکنے میں مدد کی۔ اگرچہ ہم نے کورونا وائرس پر کافی حد تک قابو پالیا ہے اور ٹیکہ اندازی کی مہم بھی شروع کردی ہے اور مہم دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ اندازی مہم ہے۔ ایسے میں ہمیں چاہئے کہ تمام تر احتیاطی اقدامات اختیار کریں، سماجی دوری برقرار رکھیں، اپنے ہاتھ دھوتے رہیں، ماسک کا استعمال کریں، ہجوم سے دور رہیں اور ڈاکٹروں کا مشورہ مانتے ہوئے بنا کسی جھجک خود ٹیکہ لیں۔ شعور بیداری، چوکسی اور فوری اقدامات ہی ہمیں وائرس کا خطرہ کم کرنے میں مدد دیں گے۔