کورونا کیسس میں اضافہ، ماسک کے لازمی استعمال کا مشورہ: ڈاکٹر سرینواس راؤ

   

حیدرآباد۔10۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کورونا کی چوتھی لہر کے امکانات انتہائی کم ہے تاہم گزشتہ چند دنوں سے کیسس میں اضافہ کے رجحان کو دیکھتے ہوئے عوام کو کووڈ قواعد پر عمل کرنا چاہئے۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت ڈاکٹر سرینواس راؤ نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں گزشتہ چند دنوں سے کووڈ کیسس میں اضافہ ہوا ہے ۔ ہر شخص کو گھر سے باہر نکلتے وقت لازمی طور پر ماسک کا استعمال کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں گزشتہ ہفتہ 355 کیسس درج کئے گئے تھے جبکہ جاریہ ہفتہ کیسس کی تعداد بڑھ کر 555 ہوچکی ہے۔ 50 فیصد سے زائد کیسس میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک بھر میں ایکٹیو کیسس کی تعداد 36 ہزار سے زائد ہے جبکہ تلنگانہ میں یہ تعداد 811 ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی تیسری لہر کے کیسس میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن گزشتہ دو ہفتوں سے کیسس کی تعداد میں اضافہ کا رجحان دیکھا گیا ہے ۔ تلنگانہ میں کیسس میں اضافہ کے باوجود ہاسپٹل میں شریک ہونے والے مریضوں اور اموات کی تعداد صفر کے برابر ہے ۔ تلنگانہ میں 811 ایکٹیو کیسس میں زیادہ تر خانگی دواخانوں سے رجوع ہوکر صحت یاب ہوئے ہیں اور ایسے مریضوں کی تعداد محض 2 تا 3 ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں سے کورونا اموات کی تعداد صفر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دن سے ریاست میں روزانہ 100 سے زائد کیسس درج کئے جارہے ہیں۔ ڈھائی ماہ کے وقفہ کے بعد کیسس کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں اور تلنگانہ ریاست میں کورونا کی چوتھی لہر کے امکانات انتہائی کم ہے۔ ہاسپٹل میں شریک ہونے والے مریضوں کی تعداد اور اموات برائے نام رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کورونا کی ٹیکہ اندازی تقریباً 100 فیصد مکمل ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں عوام میں مدافعتی طاقت میں اضافہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں اور صرف کووڈ قواعد پر عمل آوری کے ذریعہ بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دن کے دوران اومیکرون وائرس سے متعلق BA4 اور BA5 کیسس میں اضافہ ہواہے۔ ڈاکٹر سرینواس راؤ نے کہا کہ کورونا وائرس مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ہے اور وہ ہمارے ساتھ موجود ہے ۔ اس کے مکمل خاتمہ کیلئے مزید وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ 12 سے 18 سال عمر کے بچوں کیلئے ریاست میں کورونا ویکسین دستیاب ہے۔ ابھی تک تقریباً 90 فیصد بچوں کی ٹیکہ اندازی ہوچکی ہے۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں خانگی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں ٹیکہ اندازی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی کہ بچوں میں ٹیکہ اندازی کی جلد تکمیل کریں۔ر