کونسل کیلئے محمد اظہر الدین اور کودنڈا رام کی نامزدگی قانونی رسہ کشی کا شکار

   

جی او 71 کو کالعدم قرار دینے ہائیکورٹ میں درخواست
حیدرآباد۔6 ۔مئی۔(سیاست نیوز) محمد اظہر الدین وپروفیسر کودنڈا رام کی گورنر کوٹہ کے تحت نامزدگی دوبارہ قانونی رسہ کشی کا شکار ہونے لگی ہے ۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے پروفیسر کودنڈا رام اور محمد اظہر الدین کی گورنر کوٹہ میں رکن قانون ساز کونسل نامزد کئے جانے والے جی او ایم ایس نمبر 71 کو کالعدم قرار دینے کے لئے تلنگانہ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پروفیسر کودنڈا رام اور محمد اظہر الدین کی گورنر کوٹہ کے تحت نامزدگی غیر قانونی ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ایک رٹ درخواست نمبر 16285/2026 میں درخواست گذار نے دعویٰ کیا ہے کہ گورنر تلنگانہ کی جانب سے پروفیسر کودنڈا رام اور محمد اظہر الدین کی نامزدگی طئے شدہ اصولوں اور آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔ درخواست گذار نے عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں کہا کہ مذکورہ نامزدگیاں دستور کی دفعہ 171 کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے کیونکہ اس میں اس بات کی صراحت موجود ہے کہ گورنر کوٹہ ادب‘ سائنس ‘ فنون ‘ سماجی خدمات کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کیلئے ہوتا ہے لیکن موجودہ نامزدگیوں میں اس بات کا خیال نہیں رکھا گیا جو کہ آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔درخواست گذار نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے دونوں اراکین قانون ساز کونسل کی نامزدگیوں سے قبل ان کے پس منظر کا مکمل جائزہ نہیں لیا بلکہ عجلت میں کئے گئے فیصلہ کے سبب ان اراکین قانون ساز کونسل جو جنہیں گورنر نے اپنے کوٹہ میں منظوری دی ہے وہ نااہل قرار دیئے جاسکتے ہیں۔عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں دوبارہ سیاسی بنیادوں پر نامزدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر کے فیصلہ کو حکومت کے انتخاب کو چیالنج کیاگیا ہے۔ واضح رہے کہ گورنر کے اختیارات اور گورنر کوٹہ کے تحت اراکین قانون ساز کونسل کے انتخاب کو منظوری کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ زیر دوراں ہے اور حکومت تلنگانہ نے محمد اظہر الدین اور پروفیسر کودنڈا رام کی نامزدگی کے سلسلہ میں جاری کئے گئے جی او میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ ان دونوں اراکین قانون ساز کونسل کی برقراری سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کے فیصلہ پر منحصر ہوگی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں درخواست گذار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ حکومت کو اس بات کا پابند بنائے کہ دونوں اراکین قانون ساز کونسل کے انتخاب کے علاوہ متعلق تمام دستاویزات عدالت میں جمع کروائیں اور جی او ایم ایس 71کو فوری طور پر معطل کیا جائے ۔3