کونسل کی 2 مخلوعہ نشستوں کیلئے کانگریس اور بی آر ایس میں سرگرمیاں

   

گریجویٹ اور مجالس مقامی زمرہ جات کی نشستیں، ڈاکٹر چنا ریڈی، کودنڈا رام اور تین مار ملنا کے نام زیر غور

حیدرآباد۔/19 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کی دو نشستوں کیلئے برسر اقتدار کانگریس اور اپوزیشن بی آر ایس میں سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ گریجویٹ اور مجالس مقامی زمرہ جات کی 2 مخلوعہ نشستوں کیلئے دعویدار ابھی سے اپنی پیروی کا آغاز کرچکے ہیں۔ جنوری یا فروری میں دونوں نشستوں کیلئے انتخابات کا امکان ہے۔ پی راجیشور ریڈی اور کے نارائن ریڈی کے استعفی سے یہ نشستیں خالی ہوئی ہیں۔ راجیشور ریڈی نلگنڈہ، ورنگل اور کھمم اضلاع پر مشتمل گریجویٹ حلقہ سے منتخب ہوئے تھے جبکہ نارائن ریڈی محبوب نگر مجالس مقامی کی نشست سے کامیاب ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں سیاسی پارٹیوں نے ابھی سے اپنے امکانی امیدواروں کے بارے میں مقامی سطح پر سروے کا آغاز کردیا ہے۔ محبوب نگر مجالس مقامی کی نشست کیلئے انتخابات میں دلچسپی اس لئے بھی زیادہ دیکھی جارہی ہے کیونکہ ضلع میں مجالس مقامی میں بی آر ایس کو اکثریت حاصل ہے۔ زیڈ پی ٹی سی اور ایم پی ٹی سی ارکان میں بی آر ایس کو اکثریت کے نتیجہ میں کانگریس کیلئے کامیابی آسان نہیں ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد امید کی جارہی ہے کہ مجالس مقامی کے نمائندے بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ بڑے پیمانے پر انحراف کی صورت میں کانگریس مجالس مقامی کی نشست پر کامیابی کے موقف میں رہے گی۔ سابق وزیر ڈاکٹر جی چنا ریڈی اس نشست کیلئے اہم دعویدار ہیں کیونکہ اسمبلی چناؤ میں انہیں ٹکٹ سے محروم کیا گیا تھا۔ کوڑنگل کے سابق رکن اسمبلی گروناتھ ریڈی بھی اس حلقہ سے مضبوط دعویدار ہیں۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی سے دونوں قائدین کے بہتر روابط ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اے آئی سی سی سکریٹری سمپت کمار اور یوتھ کانگریس کے صدر شیوا سینا ریڈی کی نظریں بھی مجالس مقامی کی ایم ایل سی نشست پر ہیں۔ جہاں تک نلگنڈہ، ورنگل اور کھمم اضلاع پر مشتمل گریجویٹ زمرہ کی ایم ایل سی نشست کا سوال ہے کانگریس پارٹی پرامید ہے کہ جس طرح اسمبلی چناؤ میں بیروزگار نوجوانوں نے کانگریس کی تائید کی تھی اس مرتبہ بھی طلباء و نوجوان کانگریس کی تائید کریں گے۔ گریجویٹ زمرہ کی نشست کیلئے پروفیسر کودنڈا رام اور صحافی تین مار ملنا کے نام زیر گشت ہیں۔ سابق میں پروفیسر کودنڈا رام اور تین مار ملنا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پروفیسر کودنڈا رام نے اسمبلی چناؤ میں حصہ لینے کے بجائے کانگریس کی تائید کا اعلان کیا تھا جبکہ سوشیل میڈیا میں اپنی علحدہ شناخت رکھنے والے تین مار ملنا نے الیکشن سے قبل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ وہ یو ٹیوب چینل چلاتے ہیں جس میں بی آر ایس اور اس کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تین مار ملنا بی جے پی میں شامل ہوئے تھے لیکن انہوں نے اسمبلی الیکشن سے عین قبل کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کانگریس کے بعض گوشوں کا خیال ہے کہ ہائی کمان پروفیسر کودنڈا رام کو راجیہ سبھا کیلئے نامزد کرے گا۔ اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد راجیشور ریڈی اور نارائن ریڈی نے کونسل سے استعفی دے دیا اور گریجویٹ و مجالس مقامی زمرہ جات کی دو نشستوں پر چناؤ یقینی ہوچکا ہے۔ر