چینائی : کپتان جوروٹ نے ہندوستانی اسپنرس کی جم کر پٹائی کرتے ہوئے کافی عمدہ ڈبل سنچری بنائی جس نے انگلینڈ کو زبردست پوزیشن لاکھڑا کیا ہے اور میزبان ٹیم کے یہاں جاری پہلے ٹسٹ کے آج دوسرے روز اپنے حق میں نتیجہ حاصل کرنے کے امکانات تقریباً ختم کردیئے۔ انگلینڈ نے دوسرے دن کا اختتام ہمالیائی اسکور 555/8 کے ساتھ کیا۔ جوروٹ کے 218 رنز کے بل بوتے پر ممکن ہوا۔ انہوں نے تقریباً 9 گھنٹے بیٹنگ کی جس میں 377 گیندوں کا سامنا کیا۔ روٹ اپنے 100 ویں ٹسٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے پہلے کرکٹر بنے، لیکن اس سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کی اننگز نے وہ کام کیا جو انگلینڈ کی مستقبل کی نسلوں کیلئے حوصلوں اور تحریک کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستانی وکٹوں پر اسپن کو کس طرح عمدگی سے کھیلا جائے۔ آج دوسرے دن ان کی اننگز کی رفتار گزشتہ روز کے مقابل برعکس رہی۔ ج وہ تیز کھیل رہے تھے اور ڈام سبلی ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ دوسری صبح بین اسٹوکس میدان پر آئے اور انہوں نے بڑے شاٹس لگاکر اسکور میں تیزی پیدا کی۔ لیفٹ ہینڈ آل راؤنڈر نے 118 گیندوں میں 82 رنز 10 چوکوں اور 3 چھکوں کی مدد سے بنائے۔ روٹ اور اسٹوکس نے مل کر 124 رنز کی پارٹنرشپ خاصی اچھی رفتار پر مکمل کی۔ ویراٹ کوہلی زیرقیادت میزبان ٹیم کیلئے مزید دباؤ کا معاملہ یہ ہے کہ انگلینڈ نے 500 کا ہندسہ عبور کرلینے کے باوجود اننگز ڈِکلیر نہیں کی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مہمان ٹیم میزبانوں کو پوری طرح پست حوصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ چینائی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم کی وکٹ سے دونوں دن ہندوستانیوں کو کچھ مدد نہیں ملی۔ روٹ بلاشبہ تعریف و ستائش کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے گزشتہ تین ٹسٹ میچوں میں آج اپنی دوسری ڈبل سنچری مکمل کرلی۔ دوسری طرف اسٹوکس نے جارحانہ روش اختیار کرتے ہوئے میزبانوں پر دباؤ بڑھایا۔ انہوں نے وکٹ پر آگے بڑھ کر کھیلتے ہوئے روی چندرن اشون کو چھکا لگایا اور پھر سینئر آف اسپنر کو سلاگ سوئپ کے ذریعہ باؤنڈری حاصل کی۔ اشون (2/132) نے اگرچہ دونوں دن کافی اچھی بولنگ کی لیکن انہیں اسٹوکس نے متزلزل کیا۔ روٹ نے بھی اشون کو دو چھکے لگائے جن میں سے دوسرے نے ان کی کریر کی پانچویں ڈبل سنچری مکمل کی۔ اسٹوکس نے روٹ کو آرام سے کھیلنے کا موقع فراہم کیا اور دیگر اسپنرس کو بھی جارحانہ کھیل کے ذریعہ داؤ میں رکھا۔ ایشانت شرما کو اعتماد سے کھیلنے والے بیٹسمنوں میں بھی اسٹوکس نمایاں رہے، حالانکہ روٹ نے سینئر پیس بولر کے خلاف دفاعی انداز اختیار کیا۔ کپتان کوہلی کو اپنے بولروں کو بار بار تبدیل کرنے کیلئے مجبور ہونا پڑا اور ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ انگلینڈ کی پختہ پوزیشن ان کیلئے باعث تشویش ہے۔ ایشانت (2/52) نے اپنی طرف سے ناسازگار حالات ہونے کے باوجود تجربہ کا استعمال کرتے ہوئے بھرپور کوشش کی۔ 98 ٹسٹ کھیل چکے ایشانت کو دنیا کے آخری مرحلے میں دو وکٹیں حاصل ہوئیں، لیکن یہ کہنا پڑے گا کہ پرانی گیند سے انہوں نے بے جان وکٹ پر خاصی اچھی بولنگ کی۔ جسپریت بمرا (2/81) نے بھی ایشانت اور اشون کا اچھا ساتھ دیا لیکن ان تمام کی محنت پر ناتجربہ کار واشنگٹن سندر نے عملاً پانی پھیر دیا۔ دیگر اسپنر اور پہلا ٹسٹ کھیلنے والے شہباز ندیم (2/167 ) نے ڈومیسٹک لیول پر اپنے 15 سالہ تجربہ کا بھرپور استعمال ضرور کیا لیکن انہیں ضرور سمجھ آگیا ہوگا کہ اسپن کے معیاری بیٹسمنوں سے بھرپور ٹیم کے خلاف شاید ان کی صلاحیت کچھ کم ہے۔ ان کی وکٹوں نے اسٹوکس اور روٹ بھلے ہی نظر آئیں گے لیکن یہ وکٹیں تب ملیں جب انگلش بیٹسمنوں نے اپنا کام پورا کرلیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیپٹن روٹ مزید 100 تا 150 رنز بنانا چاہیں گے تاکہ ہندوستان مکمل پست ہوجائے۔