نظام شوگر فیکٹری کا احیاء نہ ہوسکا، کودنڈا ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/4 جنوری، ( سیاست نیوز) آل انڈیا کسان کانگریس کے نائب صدر ایم کودنڈا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس حکومت نے زرعی شعبہ کو نظر انداز کردیا ہے جس کے نتیجہ میں کسان مختلف مسائل کا شکار ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے شعبہ جات میں زرعی شعبہ اہمیت کا حامل ہے۔ دیگر شعبہ جات کو نظرانداز کرنے میں اس قدر نقصان نہیں جتنا زرعی شعبہ کو نظراندازکرنے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہلدی، مرچ اور دال کی پیداوار کے سلسلہ میں کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت کی فراہمی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ نظام شوگر فیکٹری کے بارے میں کے سی آر نے جو تیقنات دیئے تھے انہیں پورا نہیں کیا گیا۔ حکومت نے نظام شوگر فیکٹریز کے احیاء کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد میں ہلدی بورڈ کے قیام کیلئے چیف منسٹر نے کوئی مساعی نہیں کی۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کو اس سلسلہ میں مکتوب روانہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہلدی بورڈ کے قیام میں تاخیر کیلئے مرکز اور ریاستی حکومتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔ کسانوں کو پیداوار کی امدادی قیمت فراہم کرنے میں دونوں حکومتیں ناکام ہوچکی ہیں۔ لوک سبھا انتخابات کے وقت بی جے پی نے نظام آباد کے کسانوں سے کئی وعدے کئے تھے لیکن لوک سبھا نظام آباد کی نشست پر کامیابی کے بعد بی جے پی اپنے وعدوں سے منحرف ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بورڈ کے قیام میں دشواریاں ہیں تو حکومت کو چاہیئے کہ کم از کم اقل ترین امدادی قیمت فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے تلنگانہ کے کسان حکومت کی وعدوں کی تکمیل کا انتظار کررہے ہیں صرف تیقنات اور اعلانات کے ذریعہ انہیں بہلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کودنڈا ریڈی نے کہا کہ رعیتو بندھو اور کسانوں کے قرض معافی کی اسکیم کو عملاً روک دیا گیا ہے۔ رعیتو بندھو اسکیم کے تحت 50 فیصد کسانوں کو امدادی رقم حاصل ہوئی جبکہ ایک بھی کسان کا قرض ابھی تک معاف نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قرض کی معافی کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے ابھی تک حکومت کے موقف کا اظہار نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھان کے کسان بھی مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے ساتھ حکومت کا رویہ بلدی انتخابات میں برسراقتدار پارٹی کیلئے مہنگا پڑے گا۔