کے سی آر کی بدعنوانیوں کو اسمبلی اجلاس میں بے نقاب کرنے ریونت ریڈی کا اعلان

   

ریاست کو لوٹنے والے فادر آف تلنگانہ نہیں بن سکتے، اسٹیشن گھن پور میں ترقیاتی اسکیمات کا افتتاح اور جلسہ عام سے خطاب
ہریش راؤ اور کے ٹی آر کے بجائے کے سی آر کھلے مباحث کیلئے تیار ہوں، فاضل آمدنی والی ریاست مقروض
حیدرآباد۔/16 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں 8.29 لاکھ کروڑ قرض حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ کو مقروض ریاست میں تبدیل کردیا گیا۔ سابق حکومت کے بھاری قرض کے نتیجہ میں ایک سال میں کانگریس حکومت کو سود کے طور پر 84 ہزار کروڑ اور قرض کی واپسی کیلئے 64 ہزار کروڑ ادا کرنے پڑے ہیں۔ ریاست کی معاشی صورتحال کے بارے میں تلنگانہ عوام کو بھی جاننے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی آج اسٹیشن گھن پور اسمبلی حلقہ میں مختلف ترقیاتی اسکیمات کے آغاز کے بعد جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ جنگاؤں ضلع کے اسٹیشن گھن پور میں چیف منسٹر نے 630.27 کروڑ کے ترقیاتی کاموں کا ورچول آغاز کیا۔ ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اقامتی اسکول 200 کروڑ سے تعمیر کیا جائے گا۔ گھن پور میں 5.5 کروڑ کی لاگت سے ڈگری کالج، 45.5 کروڑ سے 100 بستروں کا دواخانہ ، 26 کروڑ سے انٹیگریٹیڈ ڈیویژنل آفس کامپلکس تعمیر کیا جائے گا۔ دیوادولہ پراجکٹ کے دوسرے مرحلہ کے کاموں کیلئے 148.76 کروڑ مختص کئے گئے۔ اسٹیشن گھن پور میں 512 اندراماں ہاؤزنگ مکانات کیلئے 25.6 کروڑ مختص کئے گئے۔ سڑکوں کی توسیع کے علاوہ نئی سڑکوں کی تعمیر کے کاموں کا چیف منسٹر نے افتتاح کیا۔ بعد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باوجود کانگریس حکومت نے وعدوں پر عمل آوری کا آغاز کیا ہے۔ تشکیل حکومت کے صرف دو دن میں آر ٹی سی بسوں میں خواتین کے مفت سفر کا آغاز کیا گیا۔ اس اسکیم کیلئے تاحال 5500 کروڑ مختص کئے گئے ۔ کے سی آر حکومت نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی آڑ میں رعیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری کو روک دیا تھا۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد رعیتو بندھو کے تحت 7200 کروڑ مختص کئے گئے۔ گروپ 1 ، II اور III امتحانات کے انعقاد کے ذریعہ تقررات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کیلئے کڈیم سری ہری کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے انہیں کانگریس میں شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کے سی آر کا نام لئے بغیر کہا کہ رکن اسمبلی کی تنخواہ حاصل کرتے ہوئے وہ اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے ہیں، 15 ماہ سے تنخواہ حاصل کی گئی لیکن اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ عوامی رقومات سے تنخواہ حاصل کرنے والی شخصیت عوام کیلئے اسمبلی میں حکومت کو تجاویز پیش کرنے سے کیوں کترا رہے ہیں۔ وہ اپنے سیاسی تجربہ کا عوام کیلئے استعمال کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد ورنگل میں ایرپورٹ اور رنگ روڈ کی منظوری حاصل کی گئی۔ قاضی پیٹ میں ریلوے کوچ فیکٹری قائم کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی بجٹ سیشن میں کے سی آر اور ان کی حکومت کی خامیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کے سی آر کے فارم ہاوز میں شملہ مرچ کی فصل سے بھاری آمدنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کے سی آر فارم ہاوز میں شملہ مرچ کی کاشت سے لاکھوں روپئے کما رہے ہیں، انہیں یہ ٹکنالوجی تلنگانہ عوام کو بتانی چاہیئے۔ کے سی آر اثاثہ جات میں اضافہ کے پسِ پردہ محرکات سے عوام کو واقف کرائیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اگر کے سی آر کو آنے میں دشواری ہے تو وہ عوام کو گروپ کی شکل میں فارم ہاوز بھیجنے کیلئے تیار ہیں تاکہ شملہ مرچ کی پیداوار سے متعلق ٹکنالوجی سے واقف ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 58 لاکھ کی تنخواہ حاصل کرنے کے باوجود کے سی آر اسمبلی آنے کے بجائے فارم ہاوز میں آرام کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکاری ملازمین، پولیس اور ڈاکٹرس ملازمت کے بغیر کیا تنخواہ حاصل کرسکتے ہیں۔ چیف منسٹر نے ریاست کی ترقی اور فلاحی اسکیمات پر کے سی آر کو مباحث کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ حکومت کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں انہیں کے سی آر کو مباحث کیلئے تیار کرنا چاہیئے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے فاضل آمدنی والی ریاست کو دس برسوں میں مقروض بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے اختتام تک کے سی آر کی تمام بے قاعدگیوں کو عوام کے درمیان پیش کیا جائے گا۔ سابق وزیر ہریش راؤ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ وہ آبپاشی پراجکٹس پر مباحث کیلئے تیار ہیں لیکن بی آر ایس کے چھوٹے قائدین کے بجائے خود کے سی آر کو مباحث کیلئے آنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے ریمارک کیا کہ کے سی آر خود کو فادر آف تلنگانہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ایسے افراد جن کیلئے کے سی آر فادر آف تلنگانہ ہیں کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ فادر آف تلنگانہ شراب کی بُو کے بغیر نیند سے بیدار ہوتے ہیں؟ ۔ انہوں نے کہا کہ کونڈہ لکشمن باپو جی اور پروفیسر جئے شنکر حقیقی معنوں میں فادر آف تلنگانہ ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کئی لاکھ کروڑ لوٹنے، شراب کے عادی اور تلنگانہ عوام کا خون چوسنے والے فادر آف تلنگانہ نہیں ہوسکتے۔ جلسہ عام میں ریاستی وزراء ڈی انوسیا سیتکا، کونڈہ سریکھا اور پی سرینواس ریڈی کے علاوہ ضلع کے ارکان اسمبلی اور کونسل موجود تھے۔1