کے سی آر کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کا احتجاج

   

کانگریس ارکان اسمبلی کے انحراف کی مذمت، طلبہ سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کا الزام
حیدرآباد۔ 7 جون (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی میں طلبہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاجی ریالی اور دھرنا منظم کرتے ہوئے کانگریس ارکان اسمبلی کے ٹی آر ایس میں انضمام کی مخالفت کی گئی۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاجی ریالی منظم کی اور طلبہ حکومت کے خلاف پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے۔ وہ جمہوریت بچائو کے نعرے لگارہے تھے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف نعرے بازی کی اور الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں اپوزیشن کا صفایا کرنے کے لیے سازش رچی گئی۔ طلبہ ریالی کی شکل میں آرٹس کالج سے مین روڈ پر پہنچے اور راستہ روکو احتجاج منظم کیا جس سے ٹریفک میں خلل پڑا۔ بعد میں عثمانیہ یونیورسٹی ان ایمپلائڈ یوتھ فرنٹ کے صدرنشین سی دیاکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ غیر جمہوری اور غیر دستوری حکمرانی کے ذریعہ کے سی آر اپوزیشن کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے انحراف کے ذریعہ اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی۔ یہ کانگریس پارٹی کا نہیں بلکہ عوام کا نقصان ہے۔ اسمبلی میں مضبوط اپوزیشن کی موجودگی سے عوام کو فائدہ ہوگا کیوں کہ اپوزیشن عوامی مسائل کو شدت کے ساتھ پیش کرے گی۔ اب جبکہ تلنگانہ اسمبلی میں اپوزیشن کو کمزور کردیا گیا، عوامی مسائل کی یکسوئی ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران نوجوانوں سے روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت کی تشکیل کے بعد اس وعدے کو بھلادیا گیا۔ دیاکر نے کہا کہ تلنگانہ کے طلبہ اور بے روزگار نوجوان حکومت سے سخت ناراض ہیں اور لوک سبھا انتخابات میں ٹی آر ایس کو 7 نشستوں سے محروم ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ٹی آر ایس کا زوال یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو ماہانہ بھتے کا اعلان کیا گیا لیکن آج تک اس کے لیے گائیڈ لائینس تیار نہیں کیئے گئے۔ کے سی آر کی اسکیمات محض انتخابی فائدے کے لیے ہوتے ہیں اور نتائج کے بعد انہیں بھلادیا جاتا ہے۔ طلبہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا اعلان کیا۔