گانجہ منتقلی کا بین ریاستی ریاکٹ بے نقاب

82 کیلو گانجہ 30 ہزار روپئے ایک موٹر سائیکل ضبط ، 5 افراد گرفتار
حیدرآباد /11 جون ( سیاست نیوز ) رچہ کنڈہ پولیس نے گانجہ منتقلی کے بین ریاستی ریاکٹ کو بے نقاب کرتے ہوئے 5 افراد کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضہ سے 82 کیلو گانجہ اور 30 ہزار روپئے نقد رقم اور ایک موٹر سائیکل ضبط کرلیا جس کی مالیت تقریباً 5 لاکھ روپئے بتائی گئی ہے ۔ یہ بات جوائنٹ کمشنر رچہ کنڈہ پولیس مسٹر سدھیر بابو نے بتائی ۔ انہوں نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کیا اور بتایا کہ ایل بی نگر زون کی اسپیشل آپریشن ٹیم اور میر پیٹ پولیس کی مشترکہ کارروائی میں اس بین ریاستی ریاکٹ کو بے نقاب کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ 28 سالہ پی تیجا ، امیت گوداوری ، 31 سالہ کے کنڈل ساکن بڑنگ پیٹ 32 سالہ ونود سنگھ ساکن دھول پیٹ ، 21 سالہ ناگرجنا ساکن چنتاپلی وشاکھاپٹنم 22 سالہ چاڈا چنا ساکن وشاکھاپٹنم کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ جبکہ ایک اور سرغنہ راجو جو اڑیسہ کا ساکن ہے مفرور بتایا گیا ہے ۔ یہ ٹولی ریاست آندھراپردیش کے ڈسٹرکٹ سے گانجہ شہر منتقل کر رہی تھی ۔ جوائنٹ کمشنر نے بتایا کہ ان کے قبضہ سے 4 ٹراویل بیاگس اور ایک تھیلے کو ضبط کیا گیا جس میں 41 بڑے پیاکٹس موجود تھے اور ہر پیاکٹ 2 کیلو گانجہ پر مشتمل تھا ۔پولیس نے ان کے قبضہ سے 7 موبائل فون اور بجاج موٹر سائیکل کو ضبط کرلیا ۔ انہوں نے بتایا کہ کاموجی کنڈل کو مارچرچ 2017 میں گرفتار کیا گیا تھا اور این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت جیل منتقل کیا گیا تھا ۔ راجمنڈری سنٹرل جیل میں اس کی دوستی تیجا سے ہوئی ۔ جنہوں نے جیل سے رہائی کے بعد ملاقات کا منصوبہ بنایا اور رہائی کے بعد انہوں نے ایک ٹولی کی شکل اختیار کرلی اور وائزاگ سے گانجہ خرید کر شہر منتقل کر رہے تھے ۔ کنڈل کو میرپیٹ پولیس نے نومبر میں گرفتار کرتے ہوئے جیل منتقل کردیا ۔ جس نے جون 2018 میں جیل سے رہائی کے بعد اس نے دوبارہ گانجہ کا کاروبار شروع کردیا ۔ تیجا وائزاگ کے ریجنسی علاقہ چنتاپلی اور ریاست اڑیشہ کے سرحدی علاقوں سے گانجہ کم قیمت پر خریدا کرتا تھا ۔ کنڈل تیجا اور ونود سنگھ کے درمیان ایجنٹ کا کام کرتا تھا ۔ تیجا 15 سو روپئے کیلو گانجہ خریدنے کے بعد اس گانجہ کو ڈھائی تا ساڑھے تین ہزار روپئے میں کنڈل کو فروخت کرتا تھا اور کنڈل اس گانجہ کو 4 تا 5 ہزار روپئے میں فی کیلو ونود سنگھ کو فروخت کرتا تھا ۔ ونود سنگھ ساکن دھول پیٹ اس گانجہ کو چھوٹے چھوٹے 100 گرامس کے پیاکٹس تیار کرتے ہوئے انہیں مہنگے داموں میں کالجس کے طلبہ اور دیگر افراد کو فروخت کرتا تھا ۔ پولیس نے اس ریاکٹ کو بے نقاب کرنے کے بعد مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاکہ ایسی کسی بھی نقل و حرکت پر روک لگائی جاسکے ۔

TOPPOPULARRECENT