کالیشورم پراجکٹ میں بے قاعدگیاں، تعمیر میں شامل افراد کے اثاثہ جات کی جانچ کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 16 جولائی (سیاست نیوز) کانگریس ہیڈ کوارٹر گاندھی بھون میں عوامی نمائندوں کی عوام سے ملاقات پروگرام کے تحت رکن اسمبلی یلاریڈی مدن موہن راؤ نے عوامی مسائل کی سماعت کی۔ مختلف محکمہ جات سے متعلق مسائل پر مبنی درخواستوں کو قبول کرتے ہوئے مدن موہن راؤ نے عہدیداروں سے ربط قائم کیا۔ صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے حکومت اور عوام کے درمیان رابطہ کو مستحکم کرنے کے لئے گاندھی بھون میں عوامی نمائندوں کی آمد کا شیڈول تیار کیا ہے۔ ہفتہ میں ایک دن کوئی ایک ریاستی وزیر جبکہ روزانہ کوئی ایک رکن اسمبلی یا کونسل عوام کے لئے دستیاب رہتے ہیں۔ کارپوریشنوں کے صدور نشین کو بھی گاندھی بھون میں عوام کے لئے دستیاب رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مدن موہن راؤ نے عوامی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں مبینہ طور پر بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی تعمیر میں جو افراد بھی شریک تھے ان کے اثاثہ جات آمدنی سے کہیں زیادہ پائے گئے ہیں۔ سابق انجینئر انچیف مرلی دھر راؤ کے اثاثہ جات 5 ہزار کروڑ کے پائے گئے ہیں۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ جب ایک عہدیدار کے اثاثہ جات میں اس قدر اضافہ ہوا تو پھر کے سی آر، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کے اثاثہ جات کیا ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ میں شامل دیگر عہدیداروں کے اثاثہ جات کی جانچ کی گئی جو آمدنی سے کہیں زائد پائے گئے۔ مدن مون راؤ نے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر میں شریک تمام افراد کے اثاثہ جات کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس حکومت نے پراجکٹ کی تکمیل سے زیادہ بدعنوانیوں پر توجہ مرکوز کی تھی جس کے نتیجہ میں پراجکٹ معیار کے مطابق مکمل نہیں ہوسکا۔ بی آر ایس دور حکومت میں 10 برسوں تک محکمہ آبپاشی کی ذمہ داری کے سی آر اور ہریش راؤ کے پاس تھی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ریونت ریڈی کی قیادت میں انتخابی وعدوں کی تکمیل میں ملک میں مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی وعدوں کی تکمیل کے علاوہ مختلف طبقات کے لئے فلاحی اسکیمات شروع کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کے نظریہ کی تکمیل کرتے ہوئے ریاست میں طبقاتی سروے کا اہتمام کیا گیا اور مجالس مقامی میں بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کا