گاندھی خاندان سے کوئی دوری نہیں، خوشگوار اور قریبی روابط برقرار : ریونت ریڈی

   

روابط ظاہر کرنے فوٹوز دکھانے کی ضرورت نہیں، حیدرآباد میں ’’بھارت سمٹ‘‘ کے انعقاد کا منصوبہ، مرکز سے کلیئرنس کا انتظار، میٹرو ٹرین پراجکٹ حیدرآباد کیلئے گیم چینجر
حیدرآباد 14 مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے گاندھی خاندان سے دوریوں سے متعلق مختلف گوشوں کی جانب سے پھیلائی جارہی خبروں کی پرزور تردید کی اور کہاکہ گاندھی خاندان سے اُن کے قریبی اور خوشگوار روابط ہیں۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ گاندھی خاندان سے قریبی روابط کو ظاہر کرنے کے لئے ہر کسی کو فوٹو دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کے اور گاندھی خاندان کے درمیان کوئی دوریاں نہیں ہیں اور بعض گوشوں کی جانب سے اِس سلسلہ میں گمراہ کن پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس قائدین یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ ہائی کمان چیف منسٹر کو ملاقات کے لئے وقت دینے سے قاصر ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت کے دوران جب گاندھی خاندان سے دوریوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو چیف منسٹر نے کہاکہ اُنھیں گاندھی خاندان سے قربت ثابت کرنے کے لئے گاندھی فیملی کے ساتھ تصاویر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے روابط گاندھی خاندان سے بہتر اور خوشگوار ہیں۔ ہائی کمان سے میں نے ملاقات کی یا نہیں اِس بارے میں ہر کسی کو تصاویر دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے اِن اطلاعات کو بھی گمراہ کن قرار دیا کہ ہائی کمان نے کسی سے مشاورت کے بغیر ہی اُنھیں پردیش کانگریس کمیٹی کا صدر اور پھر بعد میں چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کیا تھا۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ وہ کسی کے بہکاوے میں یا کسی کے جال میں پھنسنے والے نہیں ہیں۔ قائد اپوزیشن کے سی آر کی اسمبلی اجلاس میں عدم شرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ کے سی آر نے گورنر کے خطبہ کے موقع پر اجلاس میں شرکت کی لیکن اُنھیں چاہئے کہ وہ اسمبلی کے باقی ایام میں شرکت کرتے ہوئے مباحث میں حصہ لیں۔ اُنھوں نے کہاکہ چیف منسٹر کی حیثیت سے 10 برسوں میں کے سی آر نے ایک بھی پالیسی تیار نہیں کی۔ تلنگانہ کے لئے جس قدر فیصلے اور پالیسی کانگریس حکومت نے تیار کی ہے اُس کی مثال سابق میں نہیں ملتی۔ تلنگانہ میں عالمی اداروں کی جانب سے 2.2 لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کے ذریعہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں بیروزگاری کی شرح 8.8 سے گھٹ کر 6.1 فیصد ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے مرکزی وزیر کشن ریڈی پر تنقید کی اور کہاکہ تلنگانہ کو حاصل ہونے والے فنڈس اور پراجکٹس کی منظوری میں وہ اہم رول ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ میں نے مرکزی حکومت کو 6 ضمانتوں پر عمل آوری کے لئے فنڈس جاری کرنے کی اپیل نہیں کی ہے بلکہ ریجنل رنگ روڈ، میٹرو ریل توسیعی منصوبہ اور موسی ریور فرنٹ ڈیولپمنٹ پراجکٹ کے لئے فنڈس کی اجرائی چاہتا ہوں۔ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزراء نے تلنگانہ سے جو وعدے کئے تھے اُن پر عمل آوری کی جانی چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی کابینہ میں میٹرو ٹرین توسیعی منصوبے کی منظوری کے بعد پراجکٹ کے تعمیری کاموں کے آغاز کے لئے حکومت تیار ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ میٹرو ٹرین توسیعی منصوبہ حیدرآباد کی ترقی میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ وزیر خارجہ جئے شنکر سے ملاقات کے لئے نئی دہلی آمد کا ذکر کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ میں ’’بھارت سمٹ‘‘ کے عنوان سے ایک پروگرام منعقد کرنے کا منصوبہ ہے جس میں تقریباً 60 سے زائد ممالک کے نمائندوں کو مدعو کیا جارہا ہے۔ اِس سمٹ میں امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما اور دیگر قائدین کی شرکت کا امکان ہے۔ بھارت سمٹ کے لئے مرکزی حکومت کے کلیئرنس کی ضرورت ہے۔ اِس سلسلہ میں نمائندگی کے لئے وزیر خارجہ جئے شنکر سے ملاقات کے لئے دہلی پہونچا ہوں۔ تلنگانہ میں مس ورلڈ مقابلے منعقد ہورہے ہیں۔ آئندہ ایک ہفتے میں اِن دونوں پروگراموں کی تفصیلات کو قطعیت دی جائے گی اور سرکاری طور پر کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ریونت ریڈی نے کہاکہ عوام مسائل کو اسمبلی میں پیش کرنے کے بجائے قائد اپوزیشن کے سی آر نے خود کو فارم ہاؤز تک محدود کرلیا ہے۔ اُنھیں کم از کم اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں مکمل طور پر شرکت کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ تلنگانہ بی جے پی قائدین ریاست کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مرکز سے فنڈس کے حصول کے بجائے وہ حکومت کے پراجکٹس کے خلاف بیان بازی میں مصروف ہیں۔ کانگریس حکومت کی ایک سال میں بہتر کارکردگی کے سبب نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے۔1