گاندھی خاندان کے بغیر کانگریس اور کانگریس کے بغیر تھرڈ فرنٹ ممکن نہیں

   

پانچ ریاستوں میں بی جے پی کو شکست ہوگی ، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری طارق انور کا انٹرویو
محمد نعیم وجاہت
سابق مرکزی وزیر و جنرل سکریٹری آل انڈیا کانگریس کمیٹی طارق انور نے کہا کہ گاندھی خاندان کے بغیر کانگریس کا وجود ادھورا ہے اور کانگریس پارٹی کے بغیر ملک میں کوئی تھرڈ فرنٹ نہیں بن سکتا ۔ شہر حیدرآباد کے دورے پر مصروف طارق انور نے دفتر روزنامہ سیاست پہونچکر نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خاں کے ساتھ خیر سگالی ملاقات کی ۔ ملک اور تلنگانہ کے تازہ سیاسی صورتحال اور مسلمانوں کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا ۔ بعد ازاں روزنامہ سیاست کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ 2014 میں بی جے پی اور سنگھ پریوار نے ایک منظم سازش کے تحت کانگریس کے خلاف بالخصوص ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زیر قیادت یو پی اے حکومت کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے بدنام کیا گیا ، جس کو آج تک ثابت نہیں کیا جاسکا ۔ فرقہ پرستی کا کارڈ کھیلا گیا ۔ کانگریس کو مسلم نواز جماعت قرار دیتے ہوئے پھوٹ ڈالو اور راج کرو کی پالیسی اپنائی گئی ۔ عوام سے جھوٹے وعدے کئے گئے ۔ ہر سال 2 کروڑ ملازمتیں ، ہر شہری کے بینک کھاتے میں 15 لاکھ جمع کرنے اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے وعدے کئے ۔ اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہوئے ہندوؤں کو متحد کیا گیا ۔ مذہبی جذبات بھڑکائے گئے ۔ لیکن تقریبا 8 سال گذر جانے کے باوجود کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا جس کا عوام کو اب احساس ہورہا ہے ۔ عوام بی جے پی سے حساب چکتا کرنا چاہتے ہیں ۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوگی ۔ کانگریس اور سیکولر جماعتوں کے حق میں شاندار نتائج برآمد ہوں گے ۔ ملک میں کانگریس کے موقف کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے طارق انور نے بتایا کہ اس وقت ملک میں کانگریس کو چومکھی مقابلہ ہے ۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار ، کانگریس بالخصوص گاندھی خاندان کے خلاف گمراہ کن پروپگنڈہ کررہی ہے ۔ میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے ۔ مگر کانگریس کی آواز کو پوری طرح عوام تک نہیں پہونچا رہا ہے ۔ بالخصوص گودی میڈیا کانگریس اور دوسری سیکولر جماعتوں کے امیج کو مسخ کررہا ہے ۔ میڈیا کا ایک گوشہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں ، بدعنوانیوں ، بے قاعدگیوں کو عوام کے سامنے آشکار کرنے سے گھبرا رہا ہے ۔ ہماری بات عوام تک نہیں پہونچ رہی ہے ۔ میڈیا کا ایک گوشہ جانبداری سے کام کررہا ہے ۔ اس کے علاوہ علاقائی پارٹیوں کی کانگریس نے ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ، اپنا نقصان کر کے ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لیے ان کا ساتھ دیا ہے ۔ مگر علاقائی پارٹیاں بھی کانگریس کو کمزور کر کے اس کی جگہ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ کانگریس بڑے بھائی کا رول ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے ۔ کانگریس پارٹی اس سے زیادہ اور کیا قربانیاں دے سکتی ہے ۔ کانگریس کے 23 سینئیر قائدین کی ناراضگی پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ جن قائدین اب اپنی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں جب بھی کانگریس پارٹی اقتدار میں رہی وہی اس کا حصہ رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ پارٹی کے اہم عہدوں پر انہوں نے خدمات انجام دی ہے ۔ پارٹی میں دوسرے بھی قائدین ہیں انہیں بھی تو اہمیت ملنی چاہئے ۔ جو قائدین لمبے عرصہ تک حکومت اور کانگریس پارٹی کے تنظیمی عہدوں سے فائدہ اٹھایا ہے اب وہ بغیر عہدوں کے کیوں کانگریس پارٹی کی خدمات انجام نہیں دے سکتے ۔ راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی کانگریس پارٹی کا دوبارہ احیاء کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل کر کام کررہے ہیں ۔ ان کا ساتھ دینا چاہئے ۔ وزیراعظم ، بی جے پی اور سنگھ پریوار بار بار نہرو ۔ گاندھی خاندان پر حملہ کرتے ہوئے انہیں کانگریس سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بی جے پی یا سنگھ پریوار سے خوفزدہ ہو کر کانگریس پارٹی میں مسلمانوں کی اہمیت گھٹانے بالخصوص تلگو ریاستوں کے مسلم قائدین کو آل انڈیا کانگریس پارٹی میں عہدے نہ دینے کے سوال کو طارق انور نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی مسلمان ہیں ۔ انہیں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کا جنرل سکریٹری اور کیرالا و لکشادیپ کانگریس امور کا انچارج بنایا گیا ہے ۔ رہی بات تلگو ریاستوں کے مسلم قائدین کو قومی سطح پر عہدے نہ ملنے کی کانگریس ایک سیکولر جماعت ہے ۔ پارٹی میں سماجی توازن کو برقرار رکھا جاتا ہے ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش سے کوئی مسلم قائدین کو نمائندگی نہیں ملی ہوگی مگر باقی طبقات کو تو نمائندگی ملی ہے نا ۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے تھرڈ فرنٹ بنانے کی تیاریوں پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی سال سے یہ کوشش ہورہی ہے مگر کانگریس کے بغیر کسی بھی فرنٹ کی تشکیل ممکن نہیں ہے ۔ اگر بنایا بھی گیا تو وہ ناکام ہوجائے گا ۔ کانگریس پارٹی نے ملک کو آزادی دلائی ۔ آزاد ملک کو بنایا اور سنوارا ہے ۔ گاندھی خاندان کے ارکان نے ملک کے لیے قربانیاں دی ہیں ۔ کانگریس کے ناراض سینئیر قائدین کو اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر غلام نبی آزاد کو کوئی شکایت ہے تو وہ جائز بھی نہیں ہے ۔ چند ماہ قبل تک تو راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں ۔ کانگریس ایک سیکولر اور جمہوری پارٹی ہے جس کے دروازے اور کھڑکیاں سب کے لیے کھلے ہیں ۔ تلنگانہ کانگریس میں چند مسائل ہیں ۔ انہیں امید ہے سب حل ہوجائیں گے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اے ریونت ریڈی پارٹی کے تمام قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہوئے تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔۔