پارلیمنٹ سے سڑک تک بھگوان رام کو جارحانہ طور پر پیش کیاجارہا ہے۔ پچھلے ہفتہ پارلیمنٹ میں‘ جب اے ائی ایم ائی ایم صدراسد الدین اویسی اورترنمول کانگریس کے اراکین پارلیمنٹ بحیثیت ایوان کے رکن حلف لے رہے تھے اس وقت ایوان کی پچھلی سیٹو ں پربیٹھے بی جے پی کے اراکین جئے شری رام کے نعرے لگارہے تھے‘
جس سے ایسا محسوس ہورہا ہے تھا کہ وہ جیت کے نشہ میں مست ہیں‘ اگلے روز ایک ویڈیو بھی سوشیل میڈیاپر وائیر ل ہوا جس میں تبریز انصاری کو ایک ہجوم جئے شری رام او رجئے ہنومان کا نعرہ لگانے پر مجبورکررہاتھا۔
اب انصاری کی موت ہوگئی ہے۔ تھانے میں ایک ٹیکسی ڈرائیور جو جئے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتے ہوئے پیٹا گیا جس نے اس کے متعلق تین لوگوں کے خلاف ایف ائی آر درج کرائی۔ جئے شری رام او رجئے سیا رام ایک وقت میں قابل قدر اور قابل احترام جملے قراردئے جاتے تھے۔
ایک دوسرے کو متوجہہ کرنے کے لئے ’رام رام‘ کا اب بھی استعمال کیاجاتا ہے۔
مذکورہ الفاظ اب سیاسی جنگ کا حصہ بن گئے ہیں اور تشددکے ان واقعات کا نشان بن گئے ہیں جس میں افسوسناک واقعات پیش آرہے ہیں۔مذہبی شناخت کااستعمال اڈوانس اکثریت کی ذہنیت کے لئے استعمال کیاکارہا ہے
۔ بی جے پی کی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی جس نے 2014میں ’رام زادے اور حرام زادے‘ کا نعرہ لگایاتھا انہیں دوبارہ وزرات میں شامل کیاگیاہے۔ “

مغربی بنگال میں جئے شری رام کا نعرہ لگانا کامطلب یہ ہوگیاہے کہ بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان تقسیم کی سیاست کو ہوا دینا ہے۔
رام کو سیاست میں ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا رامائن کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی۔سال1990میں رام رتھ یاترا کے دوران کارسیوک نے نعرہ لگایاتھا کہ’جس ہندو کا خون کو کھاؤلا‘ جو رام کے کام نہ آیا“۔

رام کی تحریک نے بی جے پی کو ایک چھوٹی سیاسی جماعت سے اقتدار کے منصب تک پہنچانے والی پارٹی بنادیا۔ ایسا زوردیاجارہا ہے کہ جئے شری رام دراصل اللہ اکبر کا جواب ہے‘ مذکورہ نعرہ بعض اوقات دہشت گردی کا عمل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مگر بھگوان رام جو ان کے نام کو دہشت گردی کی نشانی کے طور پر استعمال کررہے ہیں کی خدمات کے طور پر مانا جائے گا؟۔ اس کے علاوہ جئے شری رام کا نعرہ”مسلمانوں کو خوفزدہ بنانے“ کے لئے بھی کیاجارہا ہے۔
بھگوان رام کے نام کا بیجا استعمال کرنے کے بجائے ہم مہاتما گاندھی جس کی 150ویں یوم پیدائش اسی سال کا جشن مرکزی حکومت منانے کی تیاری کررہی ہے کے خیالات کاہم کیوں جائزہ نہیں لیتے؟۔ گاندھی کے لئے رام راج کا مطلب تمام کے لئے انصاف تھا۔
اگر گاندھی جس کی زندگی کا مقصد ہی عدم تشدد تھا اس بات کا عینی شاہد ہیں جس میں جئے شری رام کا ساتعمال کرنے والے لوگ آج استحصال کررہے ہیں‘ شائد وہ یہاں پر ہوتے تو اپنے آخری الفاظ دوبارہ ضرور بولتے ”ہئے رام