حیدرآباد۔25۔مئی (سیاست نیوز) دونوں شہروں کے علاوہ پڑوسی اضلاع سے گاندھی ہاسپٹل لائے گئے انفراسٹرکچر بالخصوص بستر اور دیگر آلات واپس کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک گاندھی ہاسپٹل میں موجود دیگر دواخانوں کا ساز و سامان واپس کردیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی وباء کے دور میں گاندھی ہاسپٹل کو کورونا وائرس کے لئے مخصوص کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ گاندھی ہاسپٹل میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور فوری طور پر بستروں کی تعداد میں اضافہ کے اقدامات کئے گئے تھے اور گذشتہ دو برسوں سے گاندھی ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے مخصوص علاج کی سہولتوں کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی تھی اوردواخانہ میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے شہر حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ پڑوسی اضلاع میں جہاں بستروں کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی تھی ان دواخانوں سے بستر اور دیگر آلات حاصل کئے گئے تھے ۔ سپرنٹنڈنٹ گاندھی ہاسپٹل ڈاکٹر کے راجہ راؤ نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے گاندھی ہاسپٹل کو کورونا وائرس کے لئے مخصوص قرار دیئے جانے کے بعد فوری طور پر دواخانہ میں آکسیجن بستروں کے علاوہ وینٹیلیٹر بستروں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے اب جبکہ ریاست تلنگانہ میںکورونا وائرس کی وباء پر بڑی حد تک قابو پایا جاچکا ہے اور کورونا وائرس کے متاثرین دواخانہ سے رجوع نہیں ہورہے ہیں اسی لئے اضافی انفراسٹرکچر جو تیار کیا گیا تھا وہ واپس کیا جانے لگا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ گاندھی ہاسپٹل میں کورونا وائرس کے دوران مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے بعد اب مریضوں کی بڑی تعداد دواخانہ سے رجوع ہونے لگی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ کورونا وائرس کے دور میں گاندھی ہاسپٹل کی خدمات کو شہر کے بیشتر تمام طبقات کی جانب سے دیکھا گیا اور اس پر اطمینان کے بعد اب مختلف امراض کا شکار مریض گاندھی ہاسپٹل سے رجوع ہوتے ہوئے اپنا علاج کروا رہے ہیں۔ ڈاکٹر کے راجہ راؤ کے مطابق یومیہ 1500 سے زائد آؤٹ پیشنٹ دواخانہ سے رجوع ہورہے ہیں اور مختلف امراض کا شکار مریضوں کی بڑی تعداد جو دواخانہ سے رجوع ہورہی ہے اسے دیکھتے ہوئے محکمہ صحت کی جانب سے دواخانوں میں موجود سہولتوں میں اضافہ کے اقدامات کے ساتھ عصری آلات کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ سرکاری دواخانوں میں فراہم کی جانے والی سہولتوں سے عوام کے استفادہ کی صورت میں طبی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ عوام کو اطمینان بخش سہولتیں حاصل ہونے لگ جائیں گی۔م