تعلیم کے باوجود ووٹنگ کے طریقہ کار سے ناواقفیت،گریجویٹس اور ٹیچرس ووٹرس کا غیر ذمہ دارانہ رویہ
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) انتخابات چاہے پارلیمنٹ کے ہوں یا مجالس مقامی کے اُن میں اگر بیالٹ پیپر کا استعمال کیا جاتا ہے تو جملہ رائے دہی کے بعض ووٹ ناکارہ قرار دیئے جاتے ہیں۔ عام طور پر غیر تعلیم یافتہ افراد بیالٹ پیپر کے استعمال سے واقف نہیں ہوتے لہذا وہ غلط طریقہ سے اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے اپنا ووٹ ضائع کرتے ہیں۔ غیر تعلیم یافتہ یا شعور سے محروم افراد اگر ایسی غلطی کریں تو پھر بھی قابل قبول ہے لیکن اگر تعلیم یافتہ گریجویٹ اور ٹیچر رائے دہندے ایسی غلطی کرتے ہیں تو پھر اُن کی قابلیت پر سوال اُٹھنا لازمی ہے۔ کریم نگر، میدک، نظام آباد اور عادل آباد اضلاع پر مشتمل ٹیچرس اور گریجویٹ ایم ایل سی کی 2 نشستوں کے انتخابات میں رائے شماری کے موقع پر عہدیداروں کو اُسوقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب 28000 سے زائد ووٹ ناکارہ قرار دیئے گئے کیونکہ رائے دہندوں نے مروجہ طریقہ کار کے مطابق ووٹ نہیں دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گریجویٹ حلقہ کے چناؤ میں 28 ہزار ووٹ مسترد کردیئے گئے جبکہ ٹیچرس نشست کے چناؤ میں 871 ووٹ ناکارہ قرار دیئے گئے۔ الیکشن کمیشن نے دونوں انتخابات میں ترجیحی ووٹ کی گنجائش رکھی تھی اور رائے دہندوں سے کہا گیا تھاکہ وہ اپنی پسند کے امیدواروں کو ترجیح کے اعتبار سے 1,2,3,4,5 جیسے نمبرس نام کے آگے موجود باکس میں لکھیں۔ رائے دہندوں کیلئے ایک سے زائد امیدواروں کو ترجیحی بنیادوں پر ووٹ دینا ضروری نہیں ہے اور اگر وہ چاہیں تو اپنی پسند کے امیدوار کو محض 1 نمبر لکھ کر بیالٹ پیپر کو بیالٹ باکس میں جمع کرسکتے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ تعلیم یافتہ گریجویٹ رائے دہندوں میں 28000 ایسے رائے دہندے ہیں جو رائے دہی کے طریقہ کار سے واقف نہیں تھے۔ ان رائے دہندوں نے نمبرس لکھنے کے بجائے یا تو نشان لگایا یا پھر نام کے آگے باکس میں اپنی دستخط کی۔ بعض رائے دہندوں نے امیدوار کے نام کے آگے موجود باکس میں اپنا نام لکھ دیا۔ بعض بیالٹ پیپرس پر رائے دہندوں نے اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں کچھ جملے بھی تحریر کئے۔ عہدیداروں نے مسترد کئے گئے ووٹوں کی تعداد کا اندازہ تقریباً 11 فیصد سے کیا ہے یعنی مجموعی رائے دہی کے 11 فیصد ووٹ ناکارہ ثابت ہوئے۔ رائے دہی کے طریقہ کار کے بارے میں ایک طرف الیکشن کمیشن نے بارہا عوام کو طریقہ کار سے واقف کرانے کیلئے مہم چلائی تو دوسری طرف امیدواروں نے بھی اپنے طور پر ووٹرس کو رائے دہی کے طریقہ کار سے واقف کرایا تھا۔ گریجویٹ تک تعلیم حاصل کرتے ہوئے جب رائے دہی کا وقت آیا تو غیر تعلیم یافتہ افراد کی طرح غلط انداز میں ووٹ دینا یقیناً ایسے رائے دہندوں کی قابلیت پر سوال کھڑے کرنے کیلئے کافی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ضلع کلکٹرس کے ذریعہ شعور بیداری مہم چلائی تھی جس میں رائے دہی کے طریقہ کار سے واقف کرایا گیا۔ گریجویٹ نشست کیلئے جملہ رائے دہندے 3.55 لاکھ تھے جن میں سے 252100 رائے دہندوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ 28000 سے زائد گریجویٹ رائے دہندوں کا غلط انداز میں ووٹ دینا عہدیداروں کیلئے حیرت کا باعث بنا۔ ٹیچرس نشست کیلئے جملہ رائے دہندے 27088 ہیں جن میں سے 25041 نے رائے دہی میں حصہ لیا اور 871 ٹیچرس کے ووٹ مسترد کردیئے گئے۔ ورنگل، نلگنڈہ ، کھمم اضلاع پر مشتمل ٹیچرس ایم ایل سی نشست کے چناؤ میں 499 ووٹ مسترد کئے گئے۔2019 میں میدک ، کریم نگر، نظام آباد اور عادل آباد گریجویٹ نشست کے انتخابات میں 9932 ووٹ ناکارہ قرار دیئے گئے تھے لیکن اس مرتبہ یہ تعداد بڑھ کر28 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔2019 میں میدک، نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر اضلاع پر مشتمل ٹیچرس نشست کے انتخابات میں 533 ووٹ مسترد کئے گئے تھے اور اس مرتبہ یہ تعداد بڑھ کر871 تک پہنچ چکی ہے۔ 1