نئی دہلی : پنجابی گلوکار اور پنجاب کانگریس لیڈر سدھو موسے والا کے قتل میں ایک بڑی سازش کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کانگریس نے ہائیکورٹ کی نگرانی میں معاملے کی جامع جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس کے ترجمان شکتی سنگھ گوہل نے پیر کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ پنجاب مختلف شعبوں میں آگے ہے لیکن پنجاب میں نئی حکومت کے قیام کے بعد امن و امان کی صورت حال ابتر ہو گئی ہے اور اس کا خمیازہ پنجاب کے لوگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجابی حکومت کی جانب سے خالی سرخیاں حاصل کرنے کیلئے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے پنجابی گلوکار سدھو موسے والا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ان کے اہل خانہ اور مداحوں کو حکومت کے اس اقدام کی قیمت چکانی پڑی ہے۔پنجاب حکومت کو جواب دینا چاہئے کہ اس نے ان کی سکیورٹی میں کمی کیوں کی اور سکیورٹی ہٹانے کے اقدام کے لئے مہم چلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی ہٹانے کا عمل خفیہ ہونا چاہیے تھا لیکن پنجاب حکومت نے سکیورٹی کے خاتمے کے طریقہ کار کو فروغ دیا جس سے جرائم پیشہ افراد کو قتل کرنے کا موقع ملا۔
سادھو یادو کو تین سال کی سزائے قید
پٹنہ : آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد کے برادر نسبتی سادھو یادو کو ایک خصوصی عدالت نے پیر کو تین سال کی سزائے قید سنائی ۔ ایم ایل اے اور ایم ایل سیز کیخلاف مقدمات کی شنوائی کرنے والی عدالت نے 2001 ء کے کیس میں یہ سزا سنائی ہے ۔ سادھو یادو پر حملے کا کیس درج ہوا تھا ۔ اُسے 15000 روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔