گوہاٹی میں جانوروں کو بیف کی سربراہی کی ہندو جہدکاروں نے کی مخالفت

,

   

گوہاٹی۔ گاؤ کشی کے خلاف اپنی آواز اٹھات ہوئے پیر کے روز بڑے پیمانے پر دائیں بازو کے کارکنوں نے گوہاٹی زو میں شیروں اور دیگر جانوروں کو سربراہ کئے جانے والے بیف کی مخالفت کی ہے۔

آسام کے ریاستی زو جو گوہاٹی میں ہے کہ سامنے بڑے پیمانے پر کشیدگی پیدا کرتے ہوئے مذکورہ کارکنوں نے گوشت لے جانے والے گاڑیوں کا راستہ روک دیا جو زو میں بند جانوروں کی سربراہی کے لئے لے جارہے تھے۔

انتظامیہ کی جانب سے زومیں گوشت لے جانے کی منظوری سے قبل زوکی طرف جانے والی سڑک کو مذکورہ کارکنوں نے کئی گھنٹوں تک بند کردیاتھا۔آسام اسٹیٹ زو کے ڈیویثرنل فارسٹ افیسر(ڈی ایف او) تیجس ماری سوامی نے کہاکہ پولیس نے وہاں پر احتجاج کررہے لوگوں کو منتشر کردیا۔زو کے عہدیداروں نے مذکورہ کارکنوں سے استفسار کیاکہ وہ اپنے مطالبات سنٹرل زو اتھاریٹی(سی زیڈ اے) کے سپرد کریں‘

جو فیصلہ کرے گا کہ جانوروں کو کس قسم کا کھانہ فراہم کیاجانا ہے۔مطالبات پر ردعمل پیش کرتے ہوئے آسام کے وزیر جنگلات پریمل سکلابیدیا نے کہاکہ جانوروں کو بیف کھلایاجاتا ہے کیونکہ یہ ان کے لئے ”اہمیت کا حامل ہے“ اور روایتی عمل کے ساتھ تغذیہ بخش غذا ہے۔

مذکورہ منسٹر نے میڈیا کوبتایاکہ”کچھ ریاستوں میں بیف پر امتناع ہے۔ وہاں کی ریاستوں میں جانوروں کو بھینس کا گوشت دیاجاتا ہے۔

مگر آسام میں بھینسوں کے گوشت کا موثر اسٹاک نہیں ہے“۔ دائیں بازوکارکنوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر ستیا رنجن بورہ نے استفسار کیاہے کہ کیوں جانوروں کو بیف سربراہ کیاجارہا ہے جبکہ دوسرے گوشت کی دسیتابی ہے۔

بورہ نے کہاکہ ”ہم(ہندوسماج) چاہتی ہیں مقدس گائے کی حفاظت کی جائے مگر زو میں بند جانوروں کو کھلانے کے لئے اس جانورکو ہلاک کیاجارہا ہے۔زو کے جانوروں کو بیف ہی کیوں کھلایاجارہا ہے جبکہ ہرن اور بدجانور کا گوشت انہیں دیاجاسکتا ہے“۔

فی الحال ہفتہ میں ایک مرتبہ زو کے جانوروں کو بیف فراہم کیاجاتا ہے۔گوہاٹی شہر کے وسط میں 175ایکڑ پر پھیلے ہوئے ہنگرا باری ریزو فارسٹ کا قیام1957میں عمل میں آیاتھا‘ جس کو آسام اسٹیٹ چڑیاگھر بھی کہاجاتا ہے جس میں 1040جنگلی جانور اور 112پرندے موجود ہیں۔

شمال مشرق کے چڑیاگھروں مں سب سے بڑا گوہاٹی زوہے جس میں 8شیر‘ 3ببر 26مگرمچھ ار دیگر چھوٹی بلیاں‘ بشمول چیتا بلی اور جنگلی بلی شامل ہے۔مذکورہ زو آسام او ردیگر شمال مشرقی ریاستوں میں لوگوں کو اپنی طرف بڑے پیمانے پر راغب کرتا ہے۔

تاہم کویڈ19کے پیش نظر پچھلے سات ماہ سے اس کو لوگوں کے لئے بند کردیاگیاہے