ہمیں ’عصمت دری کی وباء“ کے خلاف جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ سوارا بھاسکر

,

   

نئی دہلی۔ہتھرس میں دلت لڑکی کے ساتھ پیش ائے اجتماعی عصمت ریزی او رقتل واقعہ کے خلاف جمعہ کے روز جنتر منتر پر منعقدہ احتجاجی دھرنے میں شرکت کے دوران بالی ووڈ کی اداکارہ سوارا بھاسکر نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے اس ملک کو ”عصمت در ی کی وباء“ کے خلاف جدوجہد شروع کردینا چاہئے۔

عصمت دری کی وباء
احتجاجیوں سے خطاب کے دوران بھاسکرنے کہاکہ ”مختلف گروپس کے لوگ یہاں پر ہیں‘ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہتھرس‘ بلند شہر‘ اعظم گڑھ میں جو ہوا ہے

اس کے خلاف لوگ کتنے جوش میں ہیں‘ یہ عصمت دری کی ایک وباء ہے جو ملک میں پھیل رہی ہے‘ بالخصوص جس قسم کی خبریں ہمیں اترپردیش سے موصول ہورہی ہیں“

انہوں نے مزیدکہاکہ ”یہ وقت ہے ہمیں عصمت دری کی وباء کے خلاف جدوجہد شروع کردینا چاہئے اور آج ہم اس کے خلاف یہاں پر کھڑے ہیں اور ہماری جیت ہوگی“

جنتر منتر
بھاسکر جمعہ کے روز جنتر منترپر سیول سوسائٹی جہدکاروں‘ اسٹوڈنٹس‘ عورتوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ممبرس کے ساتھ متاثرہ کے ساتھ انصاف کی مانگ پر مشتمل احتجاجی دھرنے میں شریک ہوئی تھیں۔

ابتدا ء میں یہ احتجاج انڈیا گیٹ کے پاس ہونا تھا مگر بعد میں اس کو راجپتھ علاقے میں امتناعی احکامات کے پیش نظر جنتر منتر اسکو منتقل کردیاگیا۔

علاقے میں سکیورٹی میں اضافہ کردیاگیاتھا۔ زمین فورس کے علاوہ پولیس کے سینئر افیسرس اور نیم فوجی دستے کے جوان بھی ہجوم کو سنبھالنے کے لئے تعینات کردئے گئے تھے

آخری رسومات
مذکورہ 19سالہ دلت عورت جو اجتماعی عصمت ریزی کا شکار ہونے کے 15دن بعد دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکتی تھی‘

اترپردیش کے ہتھرس میں اس کے آخری رسومات چہارشنبہ کی ابتدائی ساعتوں میں انجام دئے گئے‘گھر والوں نے پولیس پر الزام لگایاہے کہ موت کی رات میں انہیں آخری رسومات انجام دینے کے لئے پولیس نے مجبور کیاتھا۔

تاہم مقامی پولیس عہدیداروں کا یہ کہنا ہے کہ اخری رسومات”گھروالوں کی مرضی کے مطابق“ انجام دئے گئے ہیں