تاریخ کا وہ روشن باب جو نظروں سے اوجھل ، حیدرآبادی بیٹی کو فراموش کردیا گیا
حیدرآباد ۔ 14 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ہندوستان کی آزادی اور قومی علامتوں کی تاریخ میں ثریا طیب جی کا نام ایک انتہائی اہم اور تاریخی مقام رکھتا ہے ۔ 15 اگست 1947 کو جب آزاد ہندوستان کا قومی پرچم سرخیوں میں آیا تو اُس کے موجودہ تین رنگوں اور درمیان میں موجود اشوک چکر والے روپ کو حتمی شکل دینے میں ثریا طیب جی اور ان کے شوہر بدر الدین طیب جی ( جو اس وقت کی آئین ساز اسمبلی کی فلیگ کمیٹی کے رکن تھے ) کا کردار بنیادی ثابت ہوا تھا ۔ اگرچہ کہ عام طور پر ( پنگالی ونکیا ) کو سودیشی پرچم کی تخلیق کار کا سہرہ دیا جاتا ہے جس میں چرخہ شامل تھا لیکن 1947 میں ملک کی آزادی کے وقت کانگریس اور آئین ساز اسمبلی کے قائدین ( بشمول پنڈت نہرو ) نے پرچم کو ایک مذہبی رنگ کے بجائے تمام ہندوستانی کی نمائندگی کے لیے غیر جانبدارانہ اور قومی علامت کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ثریا طیب جی اور ان کے شوہر نے تجویز پیش کی کہ پرچم کے وسط سے چرخے کو ہٹا کر سمراٹ اشوک کے معروف سمبل ’ اشوک چکر ‘ ( 24 تلیوں والا چکر ) کو شامل کیا جائے جو کہ انصاف ، ترقی اور عالمگیر بھائی چارے کی علامت ہے تاریخ کے حوالوں اور آکسفورڈ کی رپورٹس کے مطابق ثریا طیب جی نے خود اپنی نگرانی میں ترنگے پرچم کا پہلا نمونہ بنوایا اور پنڈت نہرو کو پیش کیا جسے آئین ساز اسمبلی نے 22 جولائی 1947 کو آزاد ہندوستان کے سرکاری قومی پرچم کے طور پر باضابطہ طور پر منظور کرلیا ۔ ثریا طیب جی کا تعلق ایک انتہائی تعلیم یافتہ اور قوم پرست خاندان سے تھا وہ حیدرآباد کے مشہور طیب جی خاندان سے منسلک تھیں ۔ جنہوں نے آزادی کی جدوجہد سماجی اصلاحات اور فن و ثقافت کے فروغ میں زبردست کردار ادا کیا ۔ ثریا طیب جی نے نہ صرف جھنڈے کا توازن تیار کیا بلکہ آزادی کے وقت دہلی کے سرکاری عمارتوں اور وائسرے ہاوز موجودہ (راشٹرپتی بھون ) پر لہرانے والے پرچم کی بروقت تیاری میں بھی مرکزی کردار ادا کیا ۔۔ 2/m/b