ہندوستان جو کل تھا، مگرآج۔۔۔۔۔۔۔ بقلم: محمد حارث ابراہیم اکرمی ندوی

یہ ہمارا ملک ہندوستان جواپنی گنگا جمنی تہذیب اور اپسی بھائی چارگی سے پوری دنیا میں اپنی ایک امتیازی شان رکھتا ہے، اور اس سرزمین کو اولیاء اللہ، صوفیاء کرام اور سادھو سنتوں کی سرزمین کہا جاتا ہے، علاوہ ازیں اس ملک میں رہنے والا ہر ایک شہری اپنے دوسرے مذہب کے ماننے والے بھائیوں کے دکھ درد میں شریک رہتا ہے۔

مگر کچھ سالوں سے اس عظیم الشان ملک کو اور اسکی تہذیب کو پامال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اس جمھوری ملک کو ایک خاص رنگ سے رنگنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس ملک کی اکثریت اس رنگ اور اس تہذیب سے اور ان فرقہ پرست عناصر سے سخت نفرت کرتی ہے۔

اس ملک کو مسلمانوں نے اس قدر سنوارا تھا اور اپنی دس ہزار سال کی حکمرانی اور جہاں بانی میں اپنی مذہبی رواداری کی ایک عظیم الشان مثال پیش کی اور اس ملک کو ایک ایسی خوبصورتی دی کہ جس کی مہک سات سمندر پار تن کے گورے اور من کے کالے انگریزوں کو محسوس ہوئی اور وہ لوٹیر اس ملک میں انے پر مجبور ہوئے۔

اور جب وہ لوگ یہاں آئے یہاں کی خوبصورتی یہاں کا بین المذاہب اتحاد، اپسی بھائی چارگی اور محبت ان کے دل میں حسد کی اگ بھڑکانے لگی اور انہوں نے آہستہ آہستہ سارے ملک پر اپنا رعب اور دبدبہ جمایا۔ اور آہستہ آہستہ اس ملک کے نظم ونسق میں تبدیلی لانی شروع کی۔

مگر اس ملک میں رہنے والی کچھ ما یہ ناز شخصیتوں نے سمجھا کہ یہ انگریز اس ملک میں وبا کی طرح پھیلتے جا رہے ہیں اب انکے خلاف کوئی منظم اقدام اٹھانہ ضروری ہے، ان پاک روحوں اور اللہ کے ان مخلص بندوں نے جد وجہد کا اغاز کیا، ملکی پیمانے پر اس آزادی کی تحریک کو لے کر آگے بڑھنے لگے۔

اس جد وجہد آزادی میں ان کو بہت سی رکاوٹیں آئی مگر انہوں پھانسی پر لٹکنا گوارا کیا اپنی جانوں کو دینا گورا کیا مگر میدان سے پیچھے نہیں ہٹے اور نہ انگریزیوں کو معافی نامہ لکھا۔ آخر کا یہ ملک 1947 کو آزاد ہوااور اسکو ایک جمھوری ملک قرار دیا گیا۔

اس ملک کی آزادی میں سب سے زیادہ قربانی مسلمانوں کی ہے اور پھر دوسرے مذہبی رہنماوں کا نمبر اتا ہے، ہماری ان پاک ہستیوں نے اس ملک کو انگریزوں کے ناپاک ہاتھوں سے آزاد تو کرالیا مگر وہ جاتے جاتے اپنے چند ناپاک بینچ چھوڑ کر گئے تھے وہی شجر آج تناور ہو کر اس ملک کو تباہی اور بربادی کی طرف لے جا رہا ہے۔

اور آج اس قوم کی حب الوطنی پر شک کیا جا رہا ہے جنھوں نے اس ملک کو بہت کچھ دیا یہاں تک کہ اس ملک کی آزادی میں بھی برادران وطن کے شانہ بشانہ کھڑے رہے اور اس ملک کی آزادی میں ایک بہت بڑا رول اور کارنامہ انجام دیا، اور شک کرنے والے وہی لوگ ہیں جو ہندوستان کو لوٹنے میں انگریزوں کے ساتھ شریک تھے.

اورانگریز جاتے جاتے اس ملک کو بانٹتے ہوئے چلے گئے، انہی انگریزوں نے اس ملک کو مختلف حصوں میں بانٹا، اور آج انہی انگریزوں کی ناجائز اولاد اس ملک کو مذہب کی بنیاد پر بانٹ رہی ہے، مذہبی منافرت پیدا کر رہی ہے، لوگوں کا ذہن اصلی مدعوں سے ہٹا نفرت کا پیغام دے رہی اور اس ملک کے بسنے والی عوام کو اور بالخصوص مسلم طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اب اس ملک کی عوام کو دوبارہ ایک بڑی ازادی کی جنگ لڑنی ہوگی، اور تمام مذہبی رہنماوں کو ایک صف میں اکر اس نفرت کی آگ کو مٹھانا ہوگا، جس طرح سے اگ کو بجھانے کے لئے پانی کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح اس نفرت کو ختم کرنے کےلیے محبت والفت کے دیئے جلانے ہونگے۔ پھر ان شاءاللہ یہ ملک اپنی ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

ہندوستان جو کل تھا، مگرآج۔۔۔۔۔۔۔ بقلم: محمد حارث ابراہیم اکرمی ندوی

TOPPOPULARRECENT