ہند۔کوریا تجارتی تعلقات میں وسعت کاامکان:لی جے میونگ
نئی دہلی، 20 اپریل (یو این آئی) جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے ہندوستان کو دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت اور وسیع آبادی کے حامل ملک کے طور پر عالمی معیشت کا ایک اہم ستون قرار دیتے ہوئے پیر کے روز کہا کہ ہندوستان اور جنوبی کوریا کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں وسعت کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ہندوستان کے دورے پر آئے ہوئے جنوبی کوریائی صدر نے دارالحکومت میں ’انڈیا۔کوریا بزنس فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور کامرس کو مزید وسعت دینے کی کافی گنجائش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سی ای پی اے ) پر جاری بات چیت کے ساتھ ساتھ اس کے دوگنا ہونے کی توقع ہے ۔ انہوں نے باہمی تعاون اور مصنوعی ذہانت (اے آئی ) میں ہندوستان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہائی ٹیک صنعتوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاز سازی کے شعبے میں تعاون کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔اس موقع پر مرکزی وزیر تجارت اور صنعت پیوش گوئل نے دونوں ممالک کے درمیان صنعت، اسٹریٹجک وسائل اور صاف توانائی پر چار ورکنگ گروپس پر مشتمل ’انڈیا۔کوریا انڈسٹریل کوآپریشن کمیٹی‘ کی تشکیل کے لیے مفاہمت نامہ پر دستخط کو دو طرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا۔ قابل ذکر ہے کہ کوریائی صدر کے اس دورے کے دوران انڈیا۔کوریا بزنس فورم کے تحت آج کل 16 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔ مسٹر گوئل نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور مسٹر لی جے میونگ نے ہندوستان میں ایک بڑی صنعتی ٹاؤن شپ کوریا کے لیے ایک خصوصی انکلیو کے قیام پر تبادلہ خیال کیا ہے ، جس میں جدید بنیادی ڈھانچہ موجود ہوگا۔ اس کا مقصد زیادہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور ہندوستانی مارکیٹ میں کوریائی کمپنیوں کے داخلے کو آسان بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کوریائی کمپنیوں کو ہندوستان کی وسیع گھریلو مانگ اور عالمی جی ڈی پی کے تقریباً دو تہائی حصے تک ہندوستان کی ترجیحی رسائی کا فائدہ اٹھانے میں مدد دے گا۔ مسٹر گوئل نے مزید کہا کہ دونوں فریقین نے دو طرفہ تجارت کو موجودہ 27 ارب امریکی ڈالر سے بڑھا کر 2030 تک 54 ارب امریکی ڈالر کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ، جس کے لیے تقریباً 18 فیصد سالانہ شرح نمو درکار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک سی ای پی اے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے ایک تیز رفتار، مشن موڈ اپروچ پر کام کرنے پر متفق ہوئے ہیں، جس میں غیر ٹیرف رکاوٹوں کو دور کرنا، ضابطوں کو آسان بنانا اور مارکیٹ تک رسائی کو بڑھانا شامل ہے ۔
انہوں نے زور دیا کہ سیمی کنڈکٹر، الیکٹرانکس، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ، ای موبلٹی اور ڈیجیٹل تجارت جیسے شعبے دونوں معیشتوں کے درمیان مضبوط ہم آہنگی پیدا کرتے ہیں۔ صنعتی ادارے فکی کے صدر اور آر پی جی گروپ کے وائس چیئرمین اننت گوئنکا نے کہا کہ سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرک گاڑیوں سے لے کر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت تک، ہندوستان کی صلاحیت کوریا کی اختراعی صلاحیتوں کے ساتھ مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مل کر ایک مضبوط اور مستقبل کے لیے تیار اقتصادی راہداری بنا سکتے ہیں جو عالمی سپلائی چین کی تنظیم نو کے اس دور میں طویل مدتی لچک اور استحکام فراہم کرے گی۔