گزشتہ سال 15 ہزار واقعات، اسکول اور کالجس میں بہتر کونسلنگ کی ضرورت
حیدرآباد ۔31 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات میں 2015 سے مسلسل اضافہ کا رجحان ہے۔ طلبہ کی خودکشی کی یوں تو مختلف وجوہات ہیں لیکن تعلیمی دباؤ اور امتحانات میں ناکامی کی صورت میں اکثر و بیشتر ذہنی دباؤ کا شکار طلبہ خودکشی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ملک میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات پر سروے کیا گیا جس میں 2015 سے 2025 کے اعداد و شمار کا احاطہ کیا گیا۔ سروے کے مطابق 2015 سے 2019 تک ہر سال خودکشی کے واقعات میں معمولی اضافہ ہوا لیکن 2020 سے خودکشی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ درج کیا گیا۔ نفسیاتی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ تعلیمی دباؤ ، بہتر مستقبل کے بارے میں غیر یقینی ، ذہنی دباؤ اور صورتحال سے مقابلہ کرنے میں حوصلے کی کمی جیسی وجوہات خودکشی کا باعث بن رہے ہیں۔ ماہرین نے طلبہ کی ذہنی صحت کو اسکول کی سطح سے بہتر بنانے کیلئے ایک منظم نظام تیار کرنے کا مشورہ دیا۔ اسکول ، کالجس اور یونیورسٹیز کی سطح پر نوجوانوں کے لئے کونسلنگ کا اہتمام کیا جانا چاہئے تاکہ انہیں حالات سے نمٹنے اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکے۔ 2015 میں ملک میں طلبہ کی خودکشی کے واقعات 8934 درج کئے گئے تھے جو 2016 سے بڑھتے ہوئے 2019 تک 10335 ہوگئے۔ 2020 میں خودکشی کے واقعات بڑھ کر 12526 تک پہنچ گئے جس کے بعد سے اضافہ کی شرح برقرار رہی اور 2025 میں 15,000 طلبہ نے خودکشی کرلی۔ یہ اعداد و شمار ایسے وقت منظر عام پر آئے ہیں جب ملک میں نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء کے نتیجہ میں 31 نوجوانوں کی خودکشی کا معاملہ سیاسی حلقوں میں گرم ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں مقامی سطح کے امتحانی پرچوں کے افشاء کے بعد ہی طلبہ کے خودکشی کے واقعات منظر عام پر آچکے ہیں۔ تلنگانہ میں انٹرمیڈیٹ امتحانی پرچوں کے افشاء کے نتیجہ میں کئی طلبہ نے خودکشی کرلی۔1/k/m/b