ہمیر پور : سینکڑوں لوگوں نے ہفتہ کو ہماچل پردیش کے ہمیر پور میں دیو بھومی سنگھرش سمیتی کے زیراہتمام ایک ریلی نکالی اور وقف بورڈ کے خاتمے اور ریاست میں تارکین وطن کی شناختی دستاویزات کی تصدیق کا مطالبہ کیا۔ اس تنظیم نے مختلف مسائل پر ریاست گیر مظاہروں کا مطالبہ کیا تھا۔ دیو بھومی سنگھرش سمیتی ضلع کے صدر سرجیت سنگھ اور بجرنگ دل ضلع کے صدر آشیش شرما کی قیادت میں ایک جلوس نکالا گیا جس میں بہت سے لوگوں نے شرکت کی۔ وہ زعفرانی جھنڈے لہرا رہے تھے اور ان کے ہاتھوں میں بینرز تھے۔ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جبکہ اقلیتی برادری کے ارکان کی دکانیں بند کر دی گئیں۔ دیو بھومی سنگھرش سمیتی کے رہنماؤں نے مقامی انتظامیہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ وقف بورڈ کو ختم کیا جائے اور تارکین وطن کی شناختی دستاویزات کی چھان بین کی جائے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ہماچل پردیش میں تارکین وطن کی دستاویزات کی جانچ پڑتال کی تجویز کو 2 اکتوبر کو ریاست بھر میں ہونے والے گرام سبھا اجلاسوں میں منظور کیا جائے۔ انہوں نے ریاستی کانگریس حکومت پر سنجولی مسجد کے معاملہ پر تاخیر کا الزام بھی لگایا۔ ہندو تنظیمیں اور مقامی لوگ سنجولی میں مسجد کے ایک غیر مجاز حصہ کو مسمار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 11 ستمبر کو احتجاج کے دوران دس افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس سے ایک دن پہلے مسلم کمیونٹی نے میونسپل کمشنر سے درخواست کی تھی کہ وہ اس مسجد کے غیر مجاز حصے کو سیل کر دیں اور عدالتی حکم کے مطابق اسے گرانے کی پیشکش بھی کی تھی۔ دیو بھومی سنگھرش سمیتی رہنماؤں نے حکومت کو خبردار کیا کہ وہ اس معاملے کو ہلکے سے نہ لے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو درست دستاویزات کے بغیر ریاست میں رہنے والے بیرونی لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے ہندوؤں کو پرامن طریقہ سے زندگی گزارنے میں مدد کرنی چاہیے۔