ہندو طبقہ سامان وہاں سے خریدیں جو ہنومان چالیسا پڑھ سکتا ہو

,

   

مہاراشٹرا کے وزیر نتیش رانے کا پھرمتنازعہ بیان‘ شیو سینا لیڈر کا اعتراض

ممبئی :جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملہ کے بعد پورا ملک غصے کی آگ میں جل رہا ہے۔ اس درمیان کچھ لوگ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی پْرزور کوششیں کر رہے ہیں۔ مہاراشٹرا حکومت میں وزیر نتیش رانے نے بھی اپنے ایک متنازعہ بیان کے ذریعہ کچھ ایسی ہی کوشش کی ہے۔ انھوں نے 25 اپریل کو ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ہندوؤں کو کسی بھی دکاندار سے کچھ خریدنا ہو تو پہلے ان کا مذہب پوچھنا چاہیے۔ دکاندار کو اگر ہنومان چالیسا نہیں آتا ہے تو اس سے سامان کی خریداری نہیں کرنی چاہیے۔متنازعہ بیانات دینے کیلئے مشہور نتیش رانے نے یہ بیان پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد دیا ہے۔ رتناگری ضلع کے داپولی شہر میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے مارنے سے پہلے مذہب پوچھا ہے۔ اس لیے ہندوؤں کو بھی کچھ خریدنے سے پہلے ان کا (دکاندار کا) مذہب پوچھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر وہ آپ کا مذہب پوچھ رہے ہیں اور آپ کو مار رہے ہیں تو آپ کو بھی کچھ خریدنے سے قبل ان کا مذہب پوچھنا چاہیے۔ اس طرح کا مطالبہ ہندو تنظیموں کو بھی اٹھانا چاہیے۔بی جے پی لیڈر نتیش رانے کا کہنا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ دکاندار اپنا مذہب نہیں بتائیں یا اپنے عقیدے کے بارے میں جھوٹ بولیں۔ ایسے وقت میں سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے۔ نتیش رانے نے بھیڑ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ خریداری کیلئے جائیں تو ان کا مذہب پوچھیں۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ وہ ہندو ہیں تو انھیں ہنومان چالیسا سنانے کے لیے کہیں۔ اگر انھیں ہنومان چالیسا نہیں آتا ہے تو ان سے کچھ بھی نہ خریدیں۔ دوسری طرف شیوسینا لیڈر راجو واگھمارے نے کہا کہ ہندوؤں سے اشیا خریدنے سے پہلے دکانداروں کا مذہب پوچھنا غلط ہے۔ انہوں نے کہاکہ نتیش رانے کے ریمارکس بالکل غلط ہیں۔ یہ ان کا ذاتی بیان ہو سکتا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ بی جے پی سے ہم آہنگ ہے۔ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ میں نتیش رانے جی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ کشمیری مسلمان عادل کے اہل خانہ کو کیا جواب دیں گے جس کو اس وقت گولی مار دی گئی جو وہ ہندوؤں کو بچارہے تھے۔ ایکناتھ شنڈے نے اس خاندان کو 5 لاکھ روپے کی مالی مدد کی۔ اس مسئلہ کو کو ہندو اور مسلمان نہیں کرنا چاہئے۔