اراضی معاملہ میں مباحث کا مطالبہ ، ایوان کے وسط میں دھرنا، بی آر ایس اور بی جے پی میں میچ فکسنگ کا الزام
حیدرآباد۔7۔ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کے مانسون سیشن کا آج توقع کے مطابق ہنگامہ خیز آغاز ہوا۔ بی آر ایس ارکان کو سیاہ ٹی شرٹ پر حکومت کے خلاف نعرے درج ہونے پر ایوان میں داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ بی جے پی ارکان نے دفعہ 22A رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ممنوعہ فہرست میں اراضیات اور جائیدادوں کو رجسٹریشن سے روکنے کے خلاف تحریک التواء پیش کی اور ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کردی۔ ایوان کی کارروائی کا صبح 10 بجے آغاز ہوا اور قومی اور علاقائی ترانے کے فوری بعد اسپیکر جی پرساد کمار نے وقفہ سوالات کے آغاز کا اعلان کیا۔ بی جے پی ارکان فلور لیڈر مہیشور ریڈی کی قیادت میں احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔ بی جے پی ارکان نے ممنوعہ فہرست میں عوامی اراضیات اور جائیدادوں کو شامل کرنے کے مسئلہ پر تحریک التواء قبول کرنے اور فوری طور پر مباحث کا مطالبہ کرنے لگے۔ مارشلس نے بی جے پی ارکان کو اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچنے سے روک دیا۔ احتجاجی ارکان ہاتھوں میں پلے کارڈس تھامے ہوئے اراضی معاملہ کی عدالتی تحقیقات کے نعرے لگا رہے تھے۔ اسپیکر پرساد کمار نے بی جے پی ارکان سے کہا کہ بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں اراضی معاملہ پر مباحث کا وقت مقرر کیا جائے گا ، لہذا ارکان کو احتجاج ترک کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں حصہ لینا چاہئے۔ اسپیکر کی بار بار اپیلوں کا بی جے پی ارکان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور انہوں نے ایوان کے وسط میں دھرنا منظم کرتے ہوئے نعرے بازی تیز کردی۔ وزیر امور مقننہ سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت خود بھی 22A کے مسئلہ میں مباحث چاہتی ہے اور بزنس اڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں مختصر مدتی مباحث کے تحت اس مسئلہ کو شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اراضی معاملہ کی یکسوئی میں سنجیدہ ہے ، اسی لئے اجلاس میں ترجیحی بنیاد پر اس پر مباحث کا فیصلہ کیا گیا۔ بی جے پی ارکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پہلے برسر اقتدار جج کے ذریعہ تحقیقات کا اعلان کریں۔ اسپیکر نے بی جے پی ارکان کو پلے کارڈس واپس کرنے کی ہدایت دی اور اسپیکر کے حکم پر مارشلس نے بی جے پی ارکان سے پلے کارڈس حاصل کرلئے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی ایوان میں موجود تھے ، تاہم بی جے پی احتجاج کے دوران وہ ایوان سے چلے گئے ۔ ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بی آر ایس اور بی جے پی میں میچ فکسنگ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ایک پارٹی ایوان کے باہر اور دوسری ایوان میں احتجاج کرتے ہوئے کارروائی میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی عوامی مسائل جیسے فیس ری ایمبرسمنٹ کے مسئلہ پر وقفہ سوالات میں حکومت جواب دے گی لیکن بی جے پی ارکان مباحث کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بزنس اڈوئزری کمیٹی کے اجلاس میں ایجنڈہ طئے کیا جائے گا۔ وینکٹ ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے کالیشورم پراجکٹ میں ایک لاکھ کروڑ کی دھاندلیوں کی سی بی آئی تحقیقات کیلئے مرکز کو مکتوب روانہ کی۔ گزشتہ ایک سال سے مرکزی حکومت نے اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کو پہلے مرکز پر سی بی آئی تحقیقات کے لئے دباؤ بنانا چاہئے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جے پی مفاہمت کے ذریعہ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ بی جے پی ارکان کے مسلسل احتجاج سے وقفہ سوالات کا آغاز نہیں ہوسکا اور اسپیکر جی پرساد کمار نے ایوان کی کارروائی کو ملتوی کردیا۔1/k/i